تین مرحلے
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۴۸
میں خانہ آبادی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اب عورت محض ایک فرد نہیں رہی، وہ سماج کا ایک ایسا جزء بن جاتی ہے جس کے بغیر نہ وہ خود مکمل ہے اور نہ سماج۔
خانہ آبادی کے اس دور میں عورت کو جس طرح رہنا ہے، اس کو ایک لفظ میں حسن معاشرت کہا جا سکتا ہے۔ قرآن میں مردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم عورتوں کے ساتھ اچھی طرح گزر کرو (عاشروهن بالمعروف) اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لیے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو (النساء ۱۹)
یہ بات جو مردوں سے کہی گئی وہی عورتوں سے متعلق بھی ہے۔ عورت کو بھی اسی ذہن کے ساتھ اپنا گھر بسانا ہے کہ خانہ آبادی میں اصل اہمیت ذاتی پسند ناپسند کی نہیں ہے بلکہ مجموعی انسانی فلاح کی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ذاتی اعتبار سے ایک چیز آپ کو پسند نہ آتی ہو مگر مجموعی انسانیت کے اعتبار سے اس میں خیر ہو۔ اس لیے گھر کے اندر ناموافق باتوں کو نباہتے ہوئے ہنسی خوشی زندگی گزارنا ہے۔ تیسرا مرحلہ وہ ہے جب کہ عورت ماں بن جاتی ہے۔ اب اس کی ذمہ داریوں کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ یعنی اگلی نسل کی تیاری میں اپنا حصہ ادا کرنا۔ ہر گھر یا خاندان گویا ایک وسیع تر انسانیت کی ایک اکائی ہے۔ اکائیوں کی درستگی سے مجموعہ درست ہوتا ہے۔ اب عورت کو یہ کرنا ہے کہ اپنی اکائی کو درست کرنے میں لگ جائے تاکہ وسیع تر انسانی معاشرہ درست معاشرہ بن سکے۔ عورت کو اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دینا ہے۔ اس کو اعلیٰ انسانی اخلاق سکھانا ہے۔ اس کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنے گھر میں اور اپنے سماج میں ایک شریف اور دیانت دار انسان کی حیثیت سے رہ سکے۔ عورت کو اپنی اولاد کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ دنیا میں انسانوں کے حقوق ادا کرنے والے بنیں، اور آخرت میں خدا کی رضا کے مستحق قرار پائیں۔
عربی کا مقولہ ہے : التعلیم فی الصغر كالنقش فى الحجر ۔ یعنی کم عمری کی تعلیم پتھرمیں نقش کی مانند ہے (فتح الباری ۶۰۲/۸) بچہ میں یہ حجری نقش بنانا ماں ہی کا کام ہے۔ اگر عورت اس امکان کو پوری طرح استعمال کرے تو اس کی آغوش میں پلا ہوا بچہ ایک ایسا انسان بن کر ابھرے گا جو انسانی دنیا کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہو نہ کہ کوئی بوجھ۔
وہی عورت کامل عورت ہے جو ان تینوں ذمہ داریوں میں پوری اترے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues