تین مرحلے
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۴۷
تعلیم کے دو پہلو ہیں۔ ایک کو سیکولر تعلیم اور دوسرے کو دینی تعلیم کہہ سکتے ہیں۔ عورت کے لیے دونوں ہی ضروری ہیں، اگرچہ دونوں کی نوعیت ایک دوسرے سے جدا ہے۔ سیکولر تعلیم اگر ضرورتِ حیات کے درجہ میں مطلوب ہے تو دینی تعلیم مقصدِ حیات کے درجہ میں درکار ہے۔ سیکولر تعلیم عورت کو زندگی کا شعور عطا کرتی ہے۔ وہ اس کو سوچنے اور رائے قائم کرنے کا طریقہ بتاتی ہے۔ انسانی نفسیات کیا ہے ۔ زمانے کے تقاضے کیا ہیں۔ قوم اور ملک کی تاریخ کیا ہے۔ وہ انسانی حالات کیا ہیں جن کے درمیان اس کو زندگی کا امتحان دینا ہے۔ یہ تمام چیزیں اس کو سیکولر تعلیم یا دنیوی تعلیم کے ذریعہ معلوم ہوتی ہیں۔ اس تعلیم کو حاصل کرنا عورت کے لیے انتہائی ضروری ہے، اس کے بغیر وہ اپنے فرائضِ حیات کو کامیابی کے ساتھ ادا نہیں کر سکتی۔
دینی تعلیم کی حیثیت مقصدی ہے۔ ہر عورت پر لازم ہے کہ وہ ضروری حد تک قرآن اور حدیث کا علم حاصل کرے۔ وہ صحابہ اور صحابیات کی زندگیوں کو جانے۔ وہ اسلام کی تاریخ سے بقدر ضرورت واقف ہو۔ وہ جانے کہ انسان کے لیے اسلام کا عطیہ کیا ہے۔
عورت اگر عربی زبان سیکھ سکے تو بہت اچھی بات ہے۔ ورنہ اپنی مادری زبان میں اس کو قرآن کا ترجمہ پڑھنا چاہیے اور بار بار اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ کیوں کہ قرآن کی حیثیت دین میں اساس کی ہے۔ قرآن کی تعلیمات سے واقفیت کے بغیر دین کا فہم و ادراک ممکن نہیں۔ اس کے بعد عورت کو احادیث کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اگر وہ عربی زبان جانے اور عربی میں پڑھ سکے تو زیادہ بہتر ہے، ورنہ آج ہر زبان میں حدیث اور سیرت پر کتا بیں موجود ہیں۔ اس کو چاہیے کہ اپنی زبان میں اس موضوع پر کتابیں حاصل کرے اور اہتمام کے ساتھ ان کا مطالعہ کرے۔
اس کے بعد صحابہ کے حالات اور دوسری دینی شخصیتوں کے حالات کا معاملہ ہے۔ ان پر بھی ہر زبان میں کثرت سے کتابیں موجود ہیں۔ ہر عورت کے لیے ضروری ہے کہ ان کتابوں کو اپنے حالات کے اعتبار سے پڑھے اور اس میں پوری آگہی حاصل کرے۔
عورت کی زندگی کا دوسرا مرحلہ وہ ہے جب کہ اس کا نکاح ہوتا ہے اور وہ کسی مرد کی بیوی بن کرنے گھر میں منتقل ہوتی ہے۔ اس دوسرے دورِ حیات میں اس کی جو ذمہ داریاں ہیں اس کو ایک لفظ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues