Al-Risala · January 1996 · page 14

شناخت کا مسئلہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۱۴

جاری ہے۔ مگر ان گنت قربانیوں کے باوجود اس میدان میں مسلمان اب تک کچھ بھی حاصل نہ کر سکے۔ مسلم علماءء اور دانشور اپنے آپ کو خلفاء اللہ فی الارض“ کی حیثیت سے دوبارہ قائم کرنا چاہتے تھے۔ جب وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوئے تو اب وہ مایوسی اور جھنجلاہٹ کی نفسیات میں مبتلا ہیں۔ وہ ساری دنیا میں اپنے آپ کو بے جگہ محسوس کر رہے ہیں، یہ ہی وہ حالت ہے جس کو تشخص کے بحران کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ بحران فرضی ہے ، اور وہ ذہنی تخیل اور خارجی صورت حال کے درمیان عدم مطابقت کی پیدا وار ہے۔

اس صورت حال نے مسلمانوں کو ایک عجیب و غریب قسم کی فکری دلدل میں پھنسا دیا ہے۔ وہ چونکہ ایک ہی ملی نشانہ سے واقف ہیں، اور وہ غلبہ و قیادت کا نشانہ ہے۔ اس لیے اب ان کو وہی آوازیں اپیل کرتی ہیں جس میں ان کی اس مخصوص نفسیات کی غذا موجود ہو۔ جو رہنما بڑے بڑے الفاظ بولیں، جو ہائی پروفائل میں کلام کریں، جو عظمت کے سبز باغ دکھائیں، وہ ہی مسلمانوں کے اندر قبولیت حاصل کرتے ہیں۔ لو پروفائل میں کلام کرنے والے رہنما موجودہ مسلمانوں کے درمیان قبولیت کا مقام حاصل نہیں کر پاتے۔ جذباتی سیاست مسلمانوں میں خوب مقبول ہوتی ہے اور حقیقت پسندانہ سیاست ان کے درمیان غیر مقبول ہو کر رہ جاتی ہے۔

اس صورت حال نے مسلمانوں کی قیادت کے معاملہ کو گویا فرضی امیدوں کی تجارت (false-hopes business) بنا دیا ہے۔ تقریباً دو سو سال سے یہ صورت حال جاری ہے کہ ایک کے بعد ایک کوئی شخص اٹھتا ہے۔ وہ جذباتی تقریروں کے ذریعہ مسلمانوں کو ایک بڑے نشانہ کی طرف دوڑا دیتا ہے۔ مگر چونکہ یہ نشانہ غیر حقیقی ہوتا ہے، اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا، مسلمانوں کا ہر اقدام ایک نئی تباہی پر ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔

اس فکری بحران یا ذہنی دلدل سے مسلمانوں کو صرف جرات مندانہ اجتہاد ہی نکال سکتا ہے۔ آج پہلی ضرورت ہے کہ مسلم علما اور مسلم دانشور دور اقتدار میں بننے والی شناخت "انتم خلفاء الله فی الارض" کے خول سے نکلیں اور براہ راست قرآن وسنت میں دی ہوئی ابدی شناخت " انتم شهداء الله فی الارض" پر قوم کو دوبارہ کھڑا کریں۔ اس طرح تشخص کا بحران اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ مسلمان من نحن (ہم کون ہیں) کا ایک ایسا جواب پالیں گے جو ہر حال میں کافی وشافی

‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues

Printed page