Al-Risala · April 1996 · page 54

مسجد اور نماز

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۵۴

مسجد اور نماز

حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری امت پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ مسجدوں پر فخر کریں گے مگر اس کو (ذکر و نماز سے) بہت کم آباد کریں گے (يأتي على امتى زمان يتباهون بالمساجد ثم لا يعمرونها إلا قليلا) فتح الباری ۶۳۲/۱ حضرت انسؓ سے ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ لوگ مسجدوں پر فخر کرنے لگیں (لا تقوم الساعة حتى يتباهى الناس في المساجد) سنن ابی داود ۱۲۰/۱ اس طرح کی روایتیں دراصل دورِ زوال کے مظاہر کو بتاتی ہیں۔ جب کسی قوم پر زوال آتا ہے تو ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ روح ختم ہو جاتی ہے، اور ظاہری چیزوں کی دھوم بڑھ جاتی ہے۔ ایسے زمانہ میں لوگ مسجدوں کی کثرت کا پر جوش طور پر چرچا کرتے ہیں۔ وہ مسجد کی شاندار تعمیرات پر فخر کرتے ہیں۔ وہ اپنی قومی عظمت کو مساجد کے در و دیوار میں نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے زمانہ میں لوگ صرف ظاہر کو جانتے ہیں، اس لیے ان کے پاس عمارتیں عظمت کے سوا کوئی اور عظمت نہیں ہوتی جس میں وہ اپنے کو برتر محسوس کرسکیں۔

مگر جب لوگوں میں دین کی روح زندہ ہو تو ان کی نظر میں در و دیوار کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ معمولی طور پر بنی ہوئی مسجدوں میں نماز پڑھ کر ان کو اور زیادہ سکون ملتا ہے۔ ان کو ایسی مسجدیں پسند آتی ہیں جہاں روشنیوں کا انتظام نہ ہو، کیوں کہ وہاں توجہ الی اللہ میں ان کے لیے کوئی چیز حارج نہیں ہوتی۔ نرم قالینوں پر سجدہ کرنے کے بجائے انھیں مٹی کے فرش پر اپنی پیشانی رکھنا زیادہ محبوب ہوتا ہے، کیوں کہ یہ ان کے عاجزانہ سجدہ کے زیادہ حسب حال ہوتا ہے۔

در و دیوار کی عظمتیں ان لوگوں کے لیے خلل اندازی کا باعث ہونے لگتی ہیں جو اللہ کی عظمت و کبریائی میں کچھ لمحات گزارنے کے لیے مسجد میں آتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے اور ان کے رب کے درمیان کوئی اور چیز حائل نہ ہو، اس لیے وہ سادہ مسجدوں کو اپنے لیے پسند کرتے ہیں نہ کہ چمک دمک والی مسجدوں کو۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues

Printed page