Al-Risala · April 1996 · page 55

عبادت اور اخلاق

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۵۵

عبادت اور اخلاق

حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لا يَشْكُرُ النَّاسَ (سنن ابی داود، ۴۵۶/۲) یعنی وہ آدمی جو انسان کا شکر نہ کرے وہ اللہ کا شکر بھی نہیں کر سکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں الہیات اور انسانیات دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ اسلام میں الہی عبادت کا تعلق بھی انسانی اخلاق سے جڑا ہوا ہے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس آدمی کی نماز اس کے لیے وبال ہے جس کا حال یہ ہو کہ وہ لوگوں کو چھوٹی چھوٹی چیزیں دینے میں بھی بخیل ہو (الماعون، ۷) حدیث میں ہے کہ اس آدمی کا روزہ روزہ نہیں جو بظاہر روزہ رکھے مگر وہ قولی اور عملی جھوٹ کو نہ چھوڑے (صحیح البخاری) قرآن میں ہے کہ مومن اس طرح صدقہ دیتا ہے کہ وہ لینے والے سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں چاہتا (الدھر (۹) حج کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ حج میں نہ بیہودہ گوئی کرنا چاہیے اور نہ بے حکمی اور نہ لڑائی جھگڑا (البقره (۱۹۷ عبادت اور اخلاق کا ایک دوسرے سے جڑا ہونا فطرت کا عین تقاضا ہے۔ انسان کا ہر عمل اس کی نفسیات کے تحت ہوتا ہے۔ اور نفسیات میں تقسیم ممکن نہیں۔ آدمی کے اندر اگر صحیح معنوں میں عبادت کی نفسیات پیدا ہو جائے تو اس کے بعد اخلاق کی نفسیات بھی ضرور اس کے اندر پیدا ہو جائے گی۔ کسی کے اندر اگر خدا پرستی ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کے اندر انسان دوستی بھی لازما موجود ہوگی۔ عبادت کوئی رسمی اور وقتی چیز نہیں۔ عبادت ایک گہرار و حانی عمل ہے۔ جس آدمی کے اندر عبادت کی روح آجائے اس کی پوری شخصیت میں تواضع ، احتیاط ، خیر خواہی اور فضولیات سے پر ہیز کا مزاج پیدا ہو جائے گا۔ اور یہی کیفیات اخلاق کی اصل ہیں۔ یہ لطیف کیفیات جب سماجی تعلقات میں ظاہر ہوں تو اسی کا دوسرا نام انسانی اخلاق ہے۔

ایک عبادت گزار لازمی طور پر انسانی خدمت گار بھی ہوتا ہے۔ اس کے اخلاق و عادات اور گفتار و کردار میں شرافت اور انسانیت کی روح بسی ہوئی ہوتی ہے۔

اگر ایک آدمی سچا خدا پرست ہو تو لازما وہ سچا انسان دوست بھی ہوگا۔ یہ دونوں صفتیں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues

Printed page