Al-Risala · April 1996 · page 7

حکومتی منصب

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۷

بچ گئے اور اپنے دین کے ساتھ بھاگ گئے۔ اور شریک درہم کے پیچھے دوڑ پڑے: نحرز سفیان وفتر بدینہ و املی شريك مرصد اللدراهم شریک النخعی الکوفی بھی سفیان ثوری ہی کی طرح ایک بڑے محدث اور فقیہ تھے ۔ ان کے متعلق صاحب تذکرۃ الحفاظ نے لکھا ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں نہایت عادل تھے (وکان عادل قضاة) ان کے عادل ہونے کا ایک واقعاتی ثبوت یہ ہے کہ خلیفہ المنصور العباسی نے ان کو ۱۵۳ھ میں کوفہ کا قاضی مقرر کیا۔ مگر ان کے غیر مصالحانہ رویہ کی وجہ سے اس نے انہیں معزول کر دیا۔ اس کے بعد المہدی نے دوبارہ ان کو کوفہ کا قاضی بنایا۔ مگر اس کے بعد موسیٰ الہادی کو دوبارہ انہیں معزول کرنا پڑا۔ (الاعلام ۱۶۳/۳)

اس حقیقت کے باوجود شاعر نے مذکورہ شعر کیوں کہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں تقویٰ کا ایک غلط معیار رائج ہو گیا۔ وہ یہ کہ جو شخص عہدہ قبول نہ کرے وہ متقی ہے اور جو شخص عہدہ قبول کر لے وہ غیر متقی ۔ حالاں کہ اسلام میں اعمال کا مدار نیت پر ہے نہ کہ محض ظاہر پر۔ یہ سراسرایک اضافی چیز ہے کہ کس نے حکومتی عہدہ قبول کیا اور کس نے قبول نہیں کیا۔ دیکھنے کی اصل چیز یہ ہے کہ عہدہ قبول کرنے کے بعد وہ اپنی نیت اور اپنے کردار کے اعتبار سے کیسا رہا۔ اہل علم اور اہل خیر کے لئے حکومتی عہدے قبول کرنا کوئی ناپسندیدہ چیز نہیں۔ اس کی ایک انتہائی مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں ملتی ہے۔ آپ خدا کے پیغمبر تھے اور آپ نے مصر کے مشرک بادشاہ کی حکومت میں ایک اعلیٰ عہدہ قبول فرمایا۔ مگر بعد کے زمانہ میں علماء اسلام غیر ضروری طور پر حکومتی عہدوں کو برا سمجھنے لگے۔ یہاں تک کہا گیا کہ یہ حضرت یوسف کے لئے خاص تھا۔ اب ہمارے لئے وہ جائز نہیں (ان هذا كان ليوسف خاصة ، وهذا اليوم غير جائز) الجامع لاحکام القرآن ۹/ لیکن یہ نظریہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ علماء کے لئے حکومتی عہدے قبول کرنا عین جائز ہے اور اس میں اسلام اور ملت کے لئے کثیر فوائد رھتے ہیں۔ البتہ شرط یہ ہے کہ نیت خالص ہو اور کسی بھی قسم کا دنیوی مفاد مقصود نہ ہو۔ اسلام میں ساری اہمیت صرف نیت یا اسپرٹ کی ہے، ظاہر کی اہمیت تمام تر اضافی ہے نہ کہ حقیقی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues

Printed page