دعوتی عمل
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۸
دعوتی عمل
یہ بات تمام مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ ہے کہ اسلام کا دعوتی عمل جاری رہنا ضروری ہے تاکہ اس کا پیغام ہر دور میں تمام نسلوں تک پہنچ سکے۔ یہ کام سے ہو ۔ موجودہ زمانہ میں اس کے بارے میں مختلف نقطۂ نظر ہو گئے ہیں۔ ایک گروہ کے نزدیک اس کا طریقہ یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام کے طور پر قائم و نافذ کیا جائے تاکہ لوگ اس کی برکتوں کا عملی تجربہ کریں۔ اس طرح وہ اسلام کے کمالات کے قائل ہو کر اسلام میں داخل ہو جائیں گے ۔ دوسرے گروہ کا ذہن یہ ہے کہ ہر ہر مسلمان کے اندر اسلامی عمل اور اسلامی کردار پیدا کیا جائے ۔ جب دوسری قومیں مسلمانوں کو چلتے پھرتے دیکھیں گی تو وہ اپنے آپ اسلام قبول کر لیں گی۔ ان لوگوں نے اس پر غور نہیں کیا کہ اشاعتی اسلام کا عمل تو پچھلے ہزار سال کے دوران مسلسل جاری تھا، وہ صرف بیسویں صدی میں پہنچ کر منقطع ہوا ہے ۔ حالانکہ ابتدائیٰ کی دور کے بعد پھر اس انداز کی دعوتی جد و جہد دوبارہ کبھی نہیں کی گئی۔ ایسی حالت میں اس کا سبب کیا تھا۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اب ایک محمود اور مستحکم اور محفوظ دین ہے ۔ اس کی یہ حیثیت عالمی سطح پر بالفعل قائم ہو چکی ہے۔ اس بنا پر اس کے پھیلنے کے لیے اب نہ براہ راست تبلیغ کی شرط ہے اور نہ عملی نظام کی موجودگی یا اصلاح یافتہ مسلمانوں کی نمائندگی ضروری ہے۔ اب وہ اپنے آپ لوگوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، شرط صرف یہ ہے کہ اسلام اور دوسری قوموں کے درمیان نفرت کی فضا نہ پائی جائے۔
قدیم زمانہ میں کبھی نفرت کی فضا موجود نہ تھی۔ چنانچہ قدیم زمانہ میں مسلسل اسلام کی اشاعت کا عمل جاری رہا۔ موجودہ زمانہ میں نااہل لیڈروں نے ساری دنیا میں یہ کیا کہ انھوں نے اسلام کے نام پر ٹکراؤ کی سیاست چلائی اور جدید میڈیا نے اس کو خوب مشتہر کیا۔ اس کے نتیجہ میں تاریخ میں پہلی بار اسلام اور دوسری قوموں کے درمیان نفرت کی فضا قائم ہو گئی۔ یہی نفرت کی فضا اسلام کے اشاعت عمل کو جاری رکھنے میں رکاوٹ بن گئی۔
اسلام کے نام پر ٹکراؤ اور احتجاج کی سیاست نے موجودہ زمانہ میں اسلام کی اشاعت کے عمل کو روک دیا ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ اس لایعنی سیاست کو ترک کر دیا جائے۔ اس کے بعد اسلامی دعوت کا عمل اپنے آپ جاری ہو جائے گا ، جیسا کہ وہ ماضی میں مسلسل اپنے آپ ہر جگہ جاری تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues