ایک فرق
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۱۱
ایک فرق
۱۵ اگست ۱۹۹۵ کو دہلی میں ایک میٹنگ میں مسٹر راج موہن گاندھی سے ملاقات ہوئی۔ وہ مہاتما گاندھی کے پوتے ہیں اور اب ان کی عمر ۶۰ سال ہو چکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک بار وہ جاپان کی ایک کانفرنس میں شریک تھے۔ وہاں ایک جاپانی ڈیلی گیٹ نے ان سے کہا کہ میں پچھلے پندرہ سال سے مختلف مقامات پر ہونے والی کانفرنسوں میں شریک رہا ہوں۔ میں نے پایا کہ کسی انٹرنیشنل کانفرنس میں، جہاں جاپانی اور ہندوستانی دونوں شرکت کر رہے ہوں، وہاں صدر کو ہمیشہ دو مشکل پیش آتی ہے۔ ایک، شرمیلے جاپانی کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ بولے۔ دوسرے، ہندوستانی ڈیلی گیٹ کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ اپنی تقریر کو تمام کرے:
Chairperson of international seminars has two difficulties:
(1) To persuade the shy Japanese to speak.
(2) To persuade the Indian delegate to complete his speech. ایک انسان وہ ہے جس کے مزاج میں سنجیدگی ہو۔ جو سیکھنا چاہتا ہو اور جس کے اندر کام کرنے کا شوق ہو۔ اس کا حال وہی ہو گا جو مذکورہ قول میں جاپانی کا حال بتایا گیا ہے۔ ایسا انسان بولنے سے زیادہ سننا چاہیے۔ کیوں کہ سننا اس کے علم میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کا دھیان اپنی عملی ذمہ داریوں پر ہو گا۔ اور جس آدمی کا ذہن اپنی عملی ذمہ داریوں پر لگا ہوا ہو، اس کا بولنا کم ہو جاتا ہے۔ عمل کا مزاج اپنے آپ قول کو گھٹا دیتا ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے جو سنجیدگی سے خالی ہو۔ جس کے اندر یہ شوق نہ ہو کہ وہ اپنے علم میں اضافہ کرے۔ جو محنت سے دور بھاگتا ہو۔ ایسے آدمی کا حال وہ ہوتا ہے جو مذکورہ قول میں ہندوستانی کا بتایا گیا ہے۔ ایسا انسان سب سے زیادہ بولنے میں دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہی نہیں کہ کچھ اور باتیں ہیں جن کو اسے جاننا چاہئے۔ وہ بے تکان بولے گا۔ کیونکہ اس کا احساس ہوگا کہ زیادہ بول کر وہ اپنے کم کام کی تلافی کر سکتا ہے۔ زیادہ بولنا اور کم کرنا غیر سنجیدہ انسان کی علامت ہے، اور کم بولنا اور زیادہ کرنا سنجیدہ انسان کی علامت۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues