Al-Risala · April 1996 · page 10

شکایت کے باوجود

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۱۰

شکایت کے باوجود

فتح مکہ کا واقعہ رمضان ۸ھ میں پیش آیا۔ اس کے جلد ہی بعد شوال ۸ھ میں غزوہ حنین ہوا۔ مکہ کی طرف اقدام سے کچھ ہی پہلے خالد بن الولید نے مدینہ آکر اسلام قبول کیا تھا۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں مہموں میں حضرت خالد کو مسلم لشکر کا سردار بنا دیا۔ یہ بات انصار کے اوپر شاق تھی۔ کیوں کہ انصار کے لوگ بہت پہلے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ایمان لا کر جاں نثاری کر رہے تھے۔ جب کہ حضرت خالد ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ آج کل کی زبان میں یہ گویا سینئر کے اوپر جونیئر کو ترجیح دینے کا معاملہ تھا۔ تاہم اس شکایت کے با وجود تمام انصار رسول اللہ کے ساتھ رہے، انھوں نے آپ کے ہر حکم کی اطاعت کی۔ خاتمہ جنگ کے بعد عرب رواج کے مطابق شعرا نے اس کے بارہ میں اشعار کہے۔ انصار کے ایک شاعر عباس بن مرداس نے بھی اس موقع پر کچھ اشعار کہے۔ اس میں ایک طرف اس شکایت کا بھی تذکرہ تھا کہ آپ نے ہمارے اوپر خالد کو ترجیح دی اور ان کو قوم کے اوپر امیر بنا دیا (فان تک قد امرت في القوم خالداً) مگر اسی کے ساتھ شاعر نے کہا :

وقال نبی المؤمنین تقدموا فحبّ إلينا أن نكون المقدمَا اور مسلمانوں کے نبی نے کہا کہ تم لوگ آگے بڑھو، تو ہمارے لیے یہ محبوب بن گیا کہ ہم آگے بڑھ کر مقابلہ کرنے والے ہوں (سيرۃ النبی لابن هشام، الجزء الرابع، صفحه ۱۱۱) انصار کو اگرچہ ظاہر حالات کے مطابق شکایت تھی۔ مگر اس شکایت کو انھوں نے اپنے عمل پر اثر انداز ہونے نہیں دیا۔ شکایت کے باوجود وہ تمام مسلمانوں کے ساتھ پوری طرح جڑے رہے۔ شکایت کے باوجود وہ اسلام کے محاذ پر متحدہ طاقت بن کر کھڑے ہو گئے۔

موجودہ دنیا میں یہ نا ممکن ہے کہ باہم شکایتیں پیدا نہ ہوں۔ صحیح یا غلط اسباب کے تحت بہر حال ایک کو دوسرے سے شکایت پیدا ہوتی ہے، حتیٰ کہ رسول اور اصحاب رسول سے بھی۔ مگر مومن شکایتوں سے بلند ہوتا ہے، وہ شکایتوں سے اوپر اٹھ کر معاملہ کرتا ہے۔ اسی لیے مومنین کی جماعت میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ شکایت اور اختلاف ان کے اتحاد کو درہم برہم کر دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues

Printed page