Al-Risala · April 1996 · page 17

حق کا اعتراف

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۱۷

اور فی کا حکم بیان کرتے ہوئے والذين جاؤا من بعدهم اور جوان کے بعد آئے کا لفظ ہے۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ فتوحات کے ذریعہ جو اموال ملیں وہ صرف حال کے لوگوں کے لئے نہیں ہیں بلکہ اس میں آنے والی نسلوں کا بھی حق ہے۔ اگر ان مفتوحہ زمینوں کو میں موجودہ فاتحین کے درمیان بانٹ دوں تو ہماری آئندہ نسلوں کو اس میں حصہ نہیں مل سکے گا۔ اور یہ قرآن کے منشاء کے خلاف ہوگا۔ حضرت عمر کے اس استدلال کو تمام لوگوں نے مان لیا اور ایک زبان ہو کر کہا کہ آپ ہی کی رائے درست ہے۔

اس کے بعد یہ اصول قائم ہو گیا کہ فتوحات کے ذریعہ جو زمینیں اسلامی مملکت میں داخل ہوں وہ حکومت اسلامی کی ملکیت قرار پائیں نہ کہ فوج کے افراد میں تقسیم ہو کر ان کی انفرادی ملکیت میں چلی جائیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سورہ حشر کی مذکورہ آیت نے لوگوں کے ہونٹ سی دئے اور اب ان کے لئے کچھ بولنے کا موقع باقی نہ رہا۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں میں مقبولیت حق کا مادہ تھا۔ ان کی بحث نہ سمجھنے کی وجہ سے تھی نہ کہ محض سرکشی کی بنا پر۔ اس لئے جب قرآن کی آیت نے حقیقت کھول دی تو اس کے بعد ان کے لئے سمجھنا کچھ دشوار نہ رہا۔

اس دنیا میں بولنے کی گنجائش اتنی زیادہ ہے کہ آدمی ہر دلیل کے جواب میں اس کے خلاف بولنے کے لئے کچھ نہ کچھ الفاظ پا لیتا ہے۔ اب جو لوگ غیر سنجیدہ ہیں وہ اسی طرح ہر دلیل کے جواب میں الفاظ کا ایک مجموعہ پیش کرکے اسے رد کر دیتے ہیں۔ مگر جو لوگ سنجیدہ ہوں اور اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہوں۔ وہ نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض اوقات کسی بات کے مخالف بن جاتے ہیں۔ مگر جب اس بات کو زیادہ واضح دلائل سے ثابت کر دیا جائے تو وہ فوراً مان لیتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں اصل بات کو ماننے میں کوئی الجھن پیش نہیں آتی۔

غلط کار وہ نہیں ہے جو غلطی کرے۔ غلط کار وہ ہے جو صحیح اور غلط واضح ہو جانے کے بعد بھی غلط روش پر قائم رہے۔ غلطی کسی بھی شخص سے ہو سکتی ہے۔ مگر جب دلیل سامنے آجائے تو آدمی کو چاہئے کہ اس کے آگے جھک جائے۔ وہ غلط روش کو ترک کر کے صحیح روش کو اختیار کر لے۔ یہی مومن کا اور یہی سچے انسان کا طریقہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues

Printed page