Al-Risala · April 1996 · page 18

وقت اتحاد

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۱۸

وقت اتحاد

نبوت سے پہلے جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ابھی ۳۵ سال تھی، مکہ میں ایک واقعہ پیش آیا۔ یہ کعبہ کی تعمیر کا مسئلہ تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کعبہ کی جو تعمیر کی تھی، وہ زمانہ گزرنے کی وجہ سے بوسیدہ ہوگئی تھی۔ چنانچہ قریش کو خیال ہوا کہ اس کو از سر نو تعمیر کیا جائے۔

پہلا مسئلہ قدیم دیوار کو توڑنے کا تھا۔ اب تمام لوگ ڈر گئے۔ ہر ایک اس اندیشہ میں تھا کہ اگر اس نے اس مقدس عمارت پر پھاوڑا چلایا تو کہیں اس کے اوپر کوئی آفت نازل نہ ہوجائے۔ آخر کار ولید بن مغیرہ نے ہمت کی۔ وہ کعبہ کے سامنے پھاوڑا لے کر کھڑا ہوا اور کہا: اللھم لم نزغ، اللھم إنا لا نريد إلا الخير (اے اللہ، ہم نے ٹیڑھی راہ اختیار نہیں کی۔ اے اللہ، ہم بھلائی کے سوا کچھ نہیں چاہتے)۔

اس کے بعد سب نے مل کر دیوار توڑی۔ مگر قدیم بنیاد کو باقی رکھا۔ ابن اسحاق کی روایت ہے کہ اس کھدائی میں ان کو ایک پتھر ملا۔ اس پر یہ کلمات لکھے ہوئے تھے: مَنْ يَزْرَعْ خَيْراً يَحْصُدُ غِبْطَةً ۔ ومن جو آدمی نیکی بوئے گا وہ قابل رشک فصل کاٹے يَزْرَعُ شَرّاً يَحْصُدُ ندَامَةً ۔ تعملون گا۔ اور جو آدمی برائی بوئے گا وہ ندامت کی السيّاتِ وَتجْزَوْنَ الحسنات. اجل، كما فصل کاٹے گا۔ کیا تم لوگ برائی کرو گے اور اچھا لا يُجْتَنَى مِنْ الشَّوْكِ العنب (سيوابن ہمام) بدلہ پاؤ گے، ایسا نہیں ہوسکتا، جس طرح کانٹے کے ۲۱۳/۱ پیڑ سے انگور نہیں توڑے جاسکتے۔

قریش کے قبیلہ نے کعبہ کی تعمیر کے لئے پتھر جمع کئے۔ پھر اس کی تعمیر شروع کی۔ جب تعمیر اس مقام پر پہنچی جہاں حجر اسود کو دوبارہ لاکر نصب کرنا تھا تو قبائل کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ یہ ایک شرف کی بات تھی، چنانچہ ہر قبیلہ یہ چاہنے لگا کہ وہی حجر اسود کو اٹھائے اور وہی اس کو اس کے سابقہ مقام پر لا کر رکھے۔ اختلاف بڑھا۔ لوگ لڑنے مرنے پر تیار ہوگئے؛ یہاں تک کہ بنو عبد الدارخون سے بھرا ہوا ایک کٹورا لائے اور اس میں اپنی انگلیاں ڈال کر آخر وقت تک لڑائی کرنے کا عہد کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues

Printed page