محقق علماء کا اختلاف
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۱۶
میں آپ نے فرمایا کہ انھوں نے علم کے بغیر فتویٰ دیا اور پھر خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا: واما الاجتهاد المطلق فقالواانہ اختتم بالائمة الاربعة حتى اوجبواتقلید واحد من هؤلاء على الامة وهذا كله هوس من هوساتهم لم يأتوا بدليل ولا يعبأ بكلامهم وانما هم من الذين حكم الحديث)، نهم (فتوا بغیر علم فضلوا وضلوا (فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت، مطبع نول کشور لکھنؤ، جلد ثانی، صفحه ۶۲۴) شیخ محمد مصطفٰی المراغی (۱۹۴۵-۱۸۸۱) کا شمار جدید مصر کے اکابر علماء میں ہوتا ہے۔ انھوں نے ازہر شریف اور اس سے ملحق دینی اداروں کے تعلیمی و تربیتی نظام کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق بنانے میں قابلِ قدر اصلاحی و تجدیدی خدمات انجام دی ہیں۔ وہ اجتہاد کے پرزور حامی تھے۔ یہاں تک کہ جو لوگ اجتہاد کو نا ممکن بتاتے ہیں ان کے خیال کی تردید کرتے ہوئے انھوں نے اپنی کتاب بحوث في التشريع الاسلامی (صفحه ۱۱۔ ۱۰) میں لکھا ہے کہ مصر کے موجودہ دینی اداروں میں ایسے علماء موجود ہیں جن کے اندر اجتہاد کی شرائط پوری طرح پائی جاتی ہیں اور اس لیے ان کے اوپر تقلید حرام ہے روانی مع احترامى لرأى القائلين باستحالة الاجتهاد وخالفهم في رأيهم واقول ان في علماء المعاهد الدينية فى مصر من توافرت فيهم شروط الاجتهاد ويحرم عليهم (لتقليد)
مشہور یمنی عالم محمد بن علی الشوکانی (م ۱۸۳۴-۱۷۶۰) ان لوگوں میں سے ہیں جو اجتہاد کو علماء امت پر فرض قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب (القول المفيد فى الاجتهاد والتقليد میں لکھا ہے :
"لا يخفى على من له أدنى فهم أن الاجتهاد قد يسّره الله للمتأخرين - تيسيراً لم يكن للسابقين - لأن التفاسير للكتاب العزيز قد دونت وصارت من الكثرة إلى حد لا يمكن حصره ، والسنة المطهرة قد دوّنت وتكلم علماء الامة على التفسير والتصحيح والترجيح والتجريح بما هو زيادة على ما يحتاج إليه المجتهد -- فالاجتهاد على المتأخرين أيسر وأسهل من الاجتهاد على المتقدمين ولا يخالف في هذا من له فهم صحيح وعقل سوى “
‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues