حبّ شدید
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۲۵
حبّ شدید
محبت ایک فطری جذبہ ہے۔ جائز حدود میں آدمی کسی بھی چیز سے محبت کر سکجاتا ہے۔ مگر حبِ شدید صرف ایک اللہ سے ہونا چاہیے ۔ صرف اللہ کو یہ حق ہے کہ انسان اپنے جذباتِ محبت کو سب سے زیادہ اس سے وابستہ کرے، اس کی قلبی شیفتگی کا سب سے بڑا مرجع خداوند ذوالجلال ہو۔ یہی بات ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے :
ومن الناس من يتخذ من دون الله اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں اندادا يحبونهم كحب الله والذين آمنوا کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں۔ ان سے ایسی محبت أشد حباً لله (البقرة ١٦٥) رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہیے۔ غیر اللہ کے ساتھ حب شدید کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً پتھر کے بتوں کے ساتھ بڑھا ہوا قلبی لگاؤ ۔ اپنے اکابر سے بہت زیادہ عقیدت، قوم کے ساتھ غیر معمولی محبت، وغیرہ۔ آدمی کو جس چیز سے حب شدید ہو اسی کی یاد میں وہ جینے لگتا ہے، اسی کا تذکرہ اس کے لیے رب سے زیادہ محبوب بن تا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسری چیزیں رسمی تعلق کے خانہ میں چلی جاتی ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی تمام خرابیوں کی جڑ یہ ہے کہ ان کے اندر اللہ کے لیے حبّ شدید نہیں۔ ذاتی مفاد، سیاسی اقتدار، قومی عزت، تاریخی عظمت، اس قسم کی چیزیں ان کے لیے حب شدید کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ خدا ان کے حب شدید کا موضوع نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ قسم کی چیزوں پر ان کے درمیان بڑی بڑی تحریکیں اٹھتی ہیں۔ مگر محبت خداوندی کی بنیاد پر کوئی تحریک ان کے درمیان نہیں اٹھتی۔
موجودہ زمانہ میں جو علوم انسانی ظاہر ہوئے ان میں خدا کے وجود کو یکسر حذف کر دیا گیا مگر مسلم دنیا میں کوئی بھی شخص نظر نہیں آتا جو اس پر تڑپے اور علوم جدیدہ سے واقفیت حاصل کرنے کے خدا کے وجود کو علمی حیثیت سے ثابت شدہ بنانے کے لیے محنت کرے۔ اللہ تعالی کو یہ مطلوب ہے کہ اقوام عالم کے اوپر خدا کے دین کی شہادت دی جائے، اگر ساری مسلم دنیا میں کوئی ایک بھی قابلِ ذکر شخص نہیں جو اس کے لیے بے چین ہو اور عمل شہادت کو جاری کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues