I wasted time and now doth time waste me.
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۲۴
سفر بھی جاری کر سکا جس کا نتیجہ ابدی محرومی تھا۔ اس طرح اب میں محرومی کی صورت میں اپنے ضائع وقت کی قیمت ادا کر رہا ہوں۔
گول برن (Goulburn) کا ایک قول اس قابل ہے کہ ہر آدمی اس کو یاد کرلے۔ وہ اس کو اس طرح محفوظ کرلے کہ وہ ہمیشہ اس کے دماغ میں مستحضر رہے۔ وہ قول یہ ہے کہ نہ زندگی میں کوئی ایک لمحہ بھی ایسا نہیں جس کے ضائع کرنے کا ہم تحمل کر سکیں:
There is not a single moment in life that we can afford to lose. وقت کو کھونا عمل کے مواقع کو کھونا ہے۔ جس نے عمل کے مواقع کو کھو دیا اس نے گویا کہ اپنا سب کچھ کھو دیا۔ وقت کو کھونے کے بعد کوئی بھی چیز باقی نہیں رہتی جس کو پانے کے لئے کوئی شخص جد و جہد کرے۔
وقت کو صحیح طور پر استعمال کرنے کے لئے زندگی میں انضباط ( ڈسپلن ) پیدا کرنا لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس کی چند ضروری تدبیریں یہ ہیں۔
۱۔ صبح کو سویرے اٹھنا۔ رات آرام کرنے کے لیے ہے اور دن کام کرنے کے لئے۔ آدمی جتنا زیادہ سویرے اٹھے گا اتنا ہی زیادہ وہ اپنے دن کو مفید طور پر استعمال کر سکے گا۔ اگر آپ اپنے ملے ہوئے وقت کو مفید بنانا چاہتے ہیں تو صبح کو سویرے اٹھنے کی عادت ڈالئے۔ ۲۔ اپنا احتساب کرنا۔ شام کو جب آپ سونے کے لئے بستر پر لیٹتے ہیں تو یہ سوچئے کہ آج کا دن آپ نے کیسا گزارا۔ آپ نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ کون سا کام آپ کا صحیح تھا اور کون سا کام غلط۔ اپنے آج کے دن کو آپ اور زیادہ بہتر کس طرح بنا سکتے تھے۔ حال کا یہ احتساب آپ کے مستقبل کو زیادہ بہتر بنانے میں مدد کرے گا۔
۳۔ ڈائری کا استعمال۔ ہمیشہ اپنے پاس ایک پاکٹ ڈائری رکھئے۔ اس میں ہر روز کے مشاہدات اور تجربات کو مختصر طور پر لکھتے رہئے۔ یہ ڈائری آپ کے لئے نہ صرف ایک یا دداشت ہوگی بلکہ وہ آپ کے لئے ایک ریگولیٹر بھی بن جائے گی۔ وہ آپ کی زندگی کی بہترین گائیڈ ثابت ہوگی۔ نوٹ: آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۲۹ جون ۱۹۹۵ کو نشر کیا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues