The Qur'an opens our spiritual eyes.
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۳۰
میں نماز با جماعت قائم کرتے تو وہ لوگ آپ کے قتل کے در پے ہو جاتے۔ کمزور مسلمانوں کو ستایا جا رہا تھا۔ اگر آپ اس میں عملی مداخلت کرتے تو وہ آپ کے ساتھ وہی کرتے جو انہوں نے آل یاسر کے ساتھ کیا۔ اسی طرح ہجرت، حدیبیہ، خندق، وغیرہ میں لڑ کر شہید ہونے کے مواقع آئے، مگر کبھی آپ نے ایسا نہیں کیا۔ جب تک دونوں پہلوؤں کو نہ دیکھا جائے کوئی صحیح رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔
مدرسہ قاسم العلوم (Washwood Heath Road) کی دعوت پر ۳ اکتوبر کی صبح کو وہاں جانا ہوا۔ وہاں اہل علم کی ایک مجلس کی صورت میں بات چیت ہوئی۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کی اصلاح کا طریقہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ جہاں تک کام کا تعلق ہے وہ تو عملاً جاری ہے۔ ہمارے یہاں ادارے قائم ہیں۔ بہت سی بڑی بڑی جماعتیں سرگرم ہیں۔ برطانیہ میں ایک ہزار مسجدیں ہیں جو اسلامی سنٹر کے طور پر چل رہی ہیں۔ مگر ان سرگرمیوں کا بہت کم فائدہ ہم کو مل رہا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ظاہری عمل تو بہت ہے مگر اسپرٹ موجود نہیں۔ مثال کے طور پر لوگوں میں جلن کا جذبہ بہت بڑے پیمانہ پر پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے ایسا ہے کہ کوئی بھی دوسرے کے کام کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ہر ایک کو اپنا کام زیادہ نظر آتا ہے اور دوسرے کا کام کم۔ اس مزاج کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر لوگوں کے اندر جلن کے بجائے خیر خواہی بے اعترافی کے بجائے اعتراف کا مزاج پیدا ہو جائے تو موجودہ سرگرمیوں سے ہم کو گنا فائدہ ملنے لگے گا۔
الہجرہ اسکول (Hob Moor Road) میں ۳ اکتوبر کی سہ پہر کو خطاب کا پروگرام تھا۔ تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں آگئے تھے۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دوسری قومیں اسلام کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔ مگر میرے نزدیک اسلام کا زیادہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا ذہین طبقہ اسلامی جد و جہد میں شریک نہیں۔ برطانیہ میں ایک ہزار مسجدیں اور اسلامی مرکز ہیں۔ مگر ان مسجدوں اور اسلامی اداروں سے زیادہ تر غیر ذہین طبقہ وابستہ ہے۔ ذہین طبقہ اس سے دور ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues