The Qur'an opens our spiritual eyes.
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۳۱
میں نے کہا کہ چند سال پہلے میں بار بیڈوز گیا۔ وہاں میری ایک تقریر تھی۔ ایک آدمی اپنے پندرہ سال کے لڑکے کو پکڑ دھکڑ کر لے آیا۔ وہ آیا تو حاضرین کے ساتھ نہیں بیٹھا بلکہ کنارے اپنا رخ الٹی طرف کر کے بیٹھ گیا۔ کسی نے پوچھا کہ تم اس طرح الگ تھلگ کیوں بیٹھے ہوئے ہو۔ اس نے کہا کہ می ناٹ (me not) یہی اس طبقہ کے بیشتر لوگوں کا حال ہے۔ وہ می ناٹ کلاس بنے ہوئے ہیں۔
ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اسلام کو اب تک اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ کے لئے قابل فہم (understandable) نہ بنا سکے۔ روایتی انداز کی تقریریں اور مضامین اس طبقہ کو اسلام کی طرف نہیں لاسکتے۔ آج اسلام کی ری ڈسکوری کی ضرورت ہے۔ اسلام قدیم ذہنوں کو بھی مطمئن کرنے کی طاقت رکھتا تھا اور آج کے ذہنوں کو بھی مطمئن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر آج ایسے داعیوں کی ضرورت ہے جنہوں نے اسلام کو ری ڈسکور کیا ہو۔ اس سلسلہ میں میں نے کئی مثالیں دے کر اس معاملہ کو واضح کیا۔
برطانیہ میں جو مسلمان آباد ہیں ان میں شاید ہی آپ کو کوئی ایسا آدمی ملے جو سکون کی نیند سوتا ہو اور جس کو مسرت کی زندگی حاصل ہو۔ یہاں کی پوری زندگی سودی قرضوں پر قائم ہے۔ گھر، کار اور تمام قیمتی چیزیں قرضوں سے حاصل کی جاتی ہیں اور ساری زندگی آدمی کما کما کر ان کا قرض مع سود ادا کرتا رہتا ہے۔ دوسری طرف گورنمنٹ ٹیکسوں میں عام آدمی کی کمائی کا ۳۰ فیصد اور زیادہ کمائی والوں کا ۶۰ فیصد وصول کر لیتی ہے۔ انڈیا اور پاکستان کی طرح یہاں یہ ممکن نہیں ہے کہ رشوت یا غلط حساب کے ذریعہ آدمی ٹیکس سے بچ جائے۔ یہاں کا نظام ایسا ہے کہ ہر آدمی کو بہر حال ٹیکس کی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس طرح تمام لوگ ایک قسم کے اقتصادی ٹریپ (trap) میں پھنس کر زندگی گزار رہے ہیں۔
دوسرا بہت بڑا مسئلہ اولاد کا ہے۔ یہاں کی سوسائٹی کا سب سے بڑا مسئلہ آزادی ہے۔ مطلق آزادی کو یہاں سب سے بڑی انسانی قدر سمجھا جاتا ہے۔ ٹی وی، اسکول اور پورے سماج سے وہ آزادی کا سبق حاصل کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ماں باپ کے لئے آزاد مخلوق بن جاتا ہے۔ باپ اگر اس کی مرضی کے خلاف کوئی بات کہیں تو وہ فوراً جواب دے گا کہ تم اپنا کام کرو، تم
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues