The Qur'an opens our spiritual eyes.
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۳۹
بدلی ہماری سوسائٹی میں آئی ہے۔
قدیم زمانہ میں جنگ شہروں سے باہر میدان جنگ میں صرف دو فوجوں کے درمیان ہوتی تھی۔ آج لڑائی ہوتی ہے تو پوری کی پوری آبادی اس میں شامل ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں جو عمومی ہنگامی حالت پیدا ہوتی ہے اس سے ساری روایتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ یہی موجودہ زمانہ میں اکثر ملکوں میں پیش آیا۔ جنگوں کے دوران ہر قسم کی کارروائی کرنی پڑی۔ اس سے قدیم اخلاقی روایتیں ٹوٹ گئیں۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ہر جگہ جہاد کے نام پر لڑائی کا مزاج بنا ہوا ہے۔ ہر جگہ کسی نہ کسی صورت میں لڑائی جاری ہے۔ اس کے نتیجہ میں ہر قسم کی اخلاقی اور انسانی روایتیں ٹوٹ رہی ہیں۔ یہ لڑائیاں بالفرض فتح پر ختم ہوں تب بھی ان کا یہ نقصان یقینی ہے کہ اس کے بعد ہر جگہ ایک ایسا انسانی معاشرہ بنے گا جو تمام اعلی روایتوں سے خالی ہوگا۔ یہاں تک کہ لوگ چیخ اٹھیں گے کہ اس اسلامی نظام سے تو قدیم غیر اسلامی نظام ہی اچھا تھا۔
سفر سے واپسی کے بعد ۱۱ اکتوبر ۱۹۹۴ء کو میں نے جناب شمشاد محمد خاں صاحب (برمنگھم) کے نام ایک خط روانہ کیا تھا۔ اس میں سفر کے کئی تجربات درج تھے۔ یہ خط یہاں نقل کیا جاتا ہے: برمنگھم میں جو دن آپ لوگوں کے ساتھ گزرے وہ میری زندگی کے یادگار دن تھے۔ حدیث میں ہے کہ جو آدمی کسی شخص سے ملا اور اس نے اس سے کچھ نہیں چکھا تو گویا وہ مردہ سے ملا۔ اس حدیث کے مطابق ، آپ سے میری ملاقات ایک زندہ شخص سے ملاقات تھی۔ یقیناً میں نے آپ سے بہت سی باتیں جانیں ، آپ سے بہت سی نئی نئی باتیں سیکھیں۔
ہجری کیلنڈر کے اعتبار سے اب میری عمر ۶۱ سال ہو چکی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ دوبارہ آپ سے ملاقات ہوگی یا نہیں۔ بہرحال اگر دنیا میں دوبارہ ملاقات مقدر نہ ہو تو دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو آخرت میں جنت میں یکجا کر دے۔ اور وہاں ملاقات کا موقع نصیب فرمائے کیونکہ جنت کی ملاقات ہی اصل ملاقات ہے۔
لندن ایئر پورٹ پر آپ سے رخصت ہو کر اندر داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ ایئر انڈیا کی فلائٹ پانچ گھنٹہ لیٹ ہے۔ یہ سارا وقت ایئر پورٹ پر انتظار میں گزارنا پڑا۔ میں نے سوچا
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues