The Qur'an opens our spiritual eyes.
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۳۸
“We won't be satisfied with the service at our airports until you are.” Sir John Egan Chief Executive BAA plc. بہتر کار کردگی کا یہی واحد معیار ہے۔
لندن سے ایئر انڈیا کی فلائٹ ۱۲ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ یہ جہاز پورے پانچ گھنٹہ لیٹ تھا۔ لندن سے دہلی کی دوری ۵۳۰۷ کلومیٹر ہے۔ یہ بڑا جہاز تھا۔ مگر اس کی تقریباً آدھی سیٹیں خالی تھیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ ایئر انڈیا کی سروس بہت بدنام ہو گئی ہے۔ اس کا ایک تجربہ مجھ کو آج کے سفر میں ہوا۔ لندن کے مقرر وقت سے یہ جہاز پانچ گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہوا ۔
جہاز جب فضا میں بلند ہو کر دہلی کی طرف روانہ ہوا تو خیال آیا کہ میں دہلی ۔ لندن ۔ دہلی کا ٹکٹ لے کر روانہ ہوا تھا۔ اب میں اپنی آخری منزل کی طرف جا رہا ہوں ۔ پرواز کے دوران ایک مسافر کی طبیعت خراب ہو گئی۔ جہاز کے عملہ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ مسافروں میں اگر کوئی ڈاکٹر ہو تو وہ فعدی مقام پر آ جائیں۔ ان کی مدد کی ضرورت ہے۔ فورا تین آدمی اپنی اپنی سیٹ سے اٹھ کر وہاں پہنچ گئے۔
۵ اکتوبر کو صبح چار بجے ہمارا جہاز دہلی ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ کیوں کہ یہ میرے لئے غیر معمولی طور پر لمبا سفر تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میں کسی دوسری دنیا میں پہنچ گیا ہوں۔ اپنی دنیا میں دوبارہ واپسی ایک موہوم سی چیز نظر آتی تھی ۔ لندن کے مضافات سے تعلق رکھنے والی زیادہ عمر کی ایک برٹش خاتون جلین رائٹ (Ms Gillian Wright) نے بتایا کہ پچاس سال پہلے برٹش سوسائٹی آج سے بہت زیادہ مختلف تھی۔ اس وقت ہم اپنے گھروں میں تالا نہیں لگاتے تھے۔ سماجی تشدد کا نام و نشان نہیں تھا۔ جوان لڑکیاں رات کو ادھر سے اُدھر جاتی تھیں مگر انہیں اس کا ڈر نہیں ہوتا تھا کہ کوئی انہیں چھیڑے گا۔ آج یہ سب ختم ہو چکا ہے۔ اب یہ حال ہے کہ آج ہی رات کو کچھ لڑکوں نے میرے گھر پر پتھر پھینکے۔ انھوں نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues