The Qur'an opens our spiritual eyes.
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۴۳
پہنچا دیا۔
دہلی ایئر پورٹ پر کسٹم کی جانچ بہت سخت ہوتی ہے۔ میں نے ایک ٹرالی پر اپنا بیگ اور کتابوں کا ایک بنڈل رکھا اور آہستہ آہستہ آگے کی طرف چلنے لگا، یہاں تک کہ میں وہاں پہنچا جہاں راستہ کے دونوں طرف کسٹم کا عملہ تیز نگاہوں کے ساتھ ہر مسافر کو دیکھنے کے لئے موجود رہتا ہے۔ یہاں میں کھڑا ہو گیا۔ اتنے میں کسٹم کا ایک کارندہ میری طرف بڑھا، اس نے روکھے انداز سے سوال کیا کہ یہ کیا چیز ہے بنڈل میں۔ میں ابھی کچھ بولا نہیں تھا کہ قریب کھڑے ہوئے افسر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا: جاؤ بابا، تم جاؤ۔
میں نے کہا کہ خدا آیا، آخرت میں بھی میرے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرما۔ حشر کے میدان میں جب میں ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ نظریں جھکائے ہوئے آگے کی طرف بڑھوں اور روکنے والے مجھے روکنے کے لئے میری طرف متوجہ ہوں تو تیری طرف سے آواز آئے: میرے اس بندے کو جانے دو، اس کو جانچ کے لئے مت روکو۔
باہر نکلا تو ہمارے انتظار میں ایک صاحب وہاں موجود تھے۔ کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ اسانی کے ساتھ ایئر پورٹ سے روانہ ہو کر گھر آ گیا۔ دوبارہ دل سے دعا نکلی کہ کاش اللہ کی رحمت سے ایسا ہو کہ جب میری زندگی کے جہاز کی واپسی کا وقت آئے اور وہ دنیا سے روانہ ہو کر آخرت کی زمین پر اتر جائے تو وہاں خدا کے فرشتے میری رہنمائی کے لئے موجود ہوں۔ وہ مجھ کو اپنے ساتھ لے کر چلیں۔ یہاں تک کہ مجھے جنت کے اندر پہنچا دیں۔ بے شک اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں کہ وہ اپنے عاجز بندہ کے ساتھ اس قسم کا رحمت کا معاملہ فرمائے۔ میری یہی دعا اپنے لئے بھی ہے اور یہی دعا آپ لوگوں کے لئے بھی۔
یورپ کے اس طویل سفر میں مجھے بار بار جدید تمدن کے پر رونق مناظر دیکھنے کو ملے۔ ان کو دیکھ کر مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آتی تھی کہ اللہ آئندہ تم کو آخرت کی نشانیاں دکھائے گا تو تم اس کو پہچان لوگے (۹۳ : ۲۷) میں نے سوچا کہ صنعتی تمدن کی یہ رونقیں ایک اعتبار سے جنت کا تصویری تعارف ہیں۔ یہ تصویریں اس لئے تھیں کہ ان کو دیکھ کر انسان جنت کی پہچان حاصل کرلے۔ مگر انسان ان تصویروں ہی کو حقیقت سمجھ کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues