مہربانی کا سلوک
الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۲۰
مہربانی کا سلوک
قرآن میں خدا کی صفت الرحمن اور الرحیم بتائی گئی ہے۔ یعنی بہت زیادہ مہربان ، نہایت رحم والا۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین (الانبیاء ، ۱۰۷) کہا گیا ہے۔ یعنی آپ ساری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ آپ کی سب سے زیادہ نمایاں صفت آپ کا آفاقی رحمت کا حامل ہونا ہے۔
قرآن میں انسان کو یہ خدائی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں اور ایک دوسرے کو ہمدردی کی نصیحت کریں (وتواصوا بالصبر وتواصوا بالمرحمة) اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان دوسرے انسان کے ساتھ شفقت اور ہمدردی اور مہربانی کا سلوک کرے، حتی کہ اگر دوسروں کی طرف سے زیادتی کا تجربہ ہو تب بھی اس کو برداشت کرتے ہوئے اپنا ہمدردانہ رویہ بدستور پوری طرح باقی رکھے۔ القرطبی نے وتواصوا بالمرحمة کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خلق خدا کے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے (ای بالرحمة علی الخلق)
اس سلسلہ میں کثرت سے روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الراحمون يرحمهم الرحمن ۔ یعنی رحم کرنے والوں پر خدا اے رحمن رحم فرمائے گا۔ اسی طرح آپ نے فرمایا : ارحموا من فى الارض يرحمكم من فى السماء ۔ یعنی تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تمہارے اوپر رحم کرے گا۔ ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں : انما يرحم الله من عباده الرحماء ۔ یعنی اللہ اپنے بندوں میں ان پر رحم کرے گا جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں (تفسیر ابن کثیر،۵۱۴/۳) اسلام کی یہ تعلیم اتنی زیادہ پھیلی کہ وہ پوری دنیا کے مسلم لٹریچر میں شامل ہوگئی۔ ہر زبان میں اس کی گونج سنائی دینے لگی۔ ہندوستان کے ایک مسلم شاعر نے کہا :
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر خدا مہربان ہو گا عرش بریں پر اس معاملہ کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ اس کو انتہائی ذاتی مسئلہ کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لا يرحم الله من لا يرحم الناس ۔ یعنی الناس انسان پر مہربانی نہیں کرے گا جو دوسرے لوگوں پر مہربانی نہ کرے (صحیح البخاری، کتاب التوحید)