عدل وانصاف
الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۲۱
عدل وانصاف
انسانیت کا ایک نہایت اہم تقاضا یہ ہے کہ آدمی لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے عدل وانصاف سے کام لے۔ وہ کسی حال میں بھی ظلم اور بے انصافی کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ چنانچہ اسلام میں شدت کے ساتھ عادلانہ رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بے شک اللہ حکم دیتا ہے عدل کا اور احسان کا (النحل ۹۰) دوسری جگہ فرمایا کہ کہو کہ میرے رب نے مجھے قسط کا حکم دیا ہے (الاعراف ۲۹) قسط اور عدل کی مادی علامت ترازو ہے۔ جس طرح ترازو کسی چیز کو ٹھیک ٹھیک باٹ کے مطابق تول دیتا ہے۔ اسی طرح آدمی کا قول وعمل بھی ہونا چاہیے۔ آدمی کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ پوری طرح منصفانہ روش اختیار کرے۔ جب وہ بولے تو اس کا بول حقیقت کے ترازو میں تلا ہوا ہو۔
قرآن میں بار بار حکم دیا گیا ہے کہ اجتماعی معاملات کو ہمیشہ عدل وانصاف کے مطابق طے کرو۔ مثلاً فرمایا کہ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو (النساء ۵۸) اسی طرح فرمایا کہ معاملات میں جب بولو تو انصاف کی بات بولو (الانعام ۱۵۳) اسی طرح فرمایا کہ نزاعی معاملات پیش آئیں تو فریقین کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا ؤ اور ان کے ساتھ ہمیشہ انصاف کرو (الحجرات ۹) یہ ایک عمومی حکم ہے۔ خاندان اور سماج میں ہمیشہ اختلافات پیش آتے ہیں۔ ایسے مواقعہ پر تمام متعلقین کا فرض ہے کہ وہ معاملہ کو انصاف کے مطابق طے کریں۔ کسی فریق کی طرف جھکے بغیر امر واقع کے مطابق معاملہ کا فیصلہ کرائیں۔
پھر فرمایا کہ اے ایمان والو، تم اللہ کے لیے قائم رہنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو۔ اور کسی گروہ کی دشمنی تم کو اس پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو، تم بہر حال انصاف کرو، یہی روش تقویٰ سے زیادہ قریب ہے (المائدہ ۸) اس سے معلوم ہوا کہ عدل وانصاف کی اہمیت اتنی زیادہ کہ زیر معاملہ آدمی دشمن ہو تب بھی انصاف کو نہ چھوڑا جائے، تب بھی بات کہی جائے جو عدل وانصاف کے مطابق ہو ۔ زمین و آسمان کا نظام سراپا عدل پر قائم ہے۔ یہاں انسان کے لیے بھی وہی روش درست ہے جو عدل وانصاف پر مبنی ہو۔ غیر عادلانہ روش کے لیے اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔