Al-Risala · May 1996 · page 22

قصد و اعتدال

الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۲۲

قصد و اعتدال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ما احسن القصد فى الغنى ما احسن القصد فی الفقر ما احسن القصد في العبادة (کیا ہی اچھی ہے میانہ روی دولت مندی میں ، کیا ہی اچھی ہے میانہ روی مفلسی میں ، کیا ہی اچھی ہے میانہ روی عبادت میں) ایک اور روایت کے مطابق آپ نے فرمایا : القصد القصد تبلغوا (میانہ روی، میانہ روی ، تم منزل پر پہنچ جاؤ گے)

قرآن میں ہے سفراً قاصداً (التوبہ (۴۲) یعنی بے مشقت سفر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں ایک صحابی کہتے ہیں : كانت صلاته قصداً وخطبته قصداً (آپ کی نماز معتدل ہوتی تھی اور آپ کا خطبہ بھی معتدل ہوتا تھا) لسان العرب میں قصد کی تشریح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ درمیانی عمل جس میں نہ افراط ہو اور نہ تفریط (لسان العرب ۳۵۴/۳) مومن کا طریقہ قصد کا طریقہ ہے، انفرادی معاملات میں بھی اور اجتماعی معاملات میں بھی۔ وہ ہمیشہ معتدل انداز اختیار کرتا ہے ، خواہ وہ ایک طرح کی صورت حال میں ہو یا دوسری طرح کی صورت حال میں۔

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے ۔ اس لیے یہاں کسی فرد یا قوم کی حالت کبھی یکساں نہیں رہ سکتی ۔ یہاں انسان کے لیے کبھی اچھے حالات ہوتے ہیں اور کبھی برے حالات ۔ اس کو کبھی پرسکون ماحول میں رہنا ہوتا ہے اور کبھی اشتعال انگیز ماحول میں۔ وہ لوگوں کے درمیان کبھی طاقتور ہوتا ہے اور کبھی کمزور۔ اس کی زندگی کبھی اپنوں کے درمیان گزرتی ہے اور کبھی غیروں کے درمیان ۔ اس کو کبھی دوستوں کے ساتھ سابقہ پیش آتا ہے اور کبھی دشمنوں کے ساتھ۔

مگر ایمان اس کو ایک تنہا ہوا انسان بنا دیتا ہے۔ وہ ہر حال میں اعتدال پر قائم رہتا ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو اللہ کی رسی میں باندھے رہتا ہے۔ اہل ایمان اہل اعتدال ہوتے ہیں۔ حالات کا اتار چڑھاؤ ان کے سکون کو برہم نہیں کرتا۔ ان کے خود اپنے مقرر اصول ان کی زندگی کا رخ متعین کرتے ہیں نہ کہ بیرونی اشخاص کے چھیڑے ہوئے مسائل۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1996 All issues

Printed page