پڑوسی کے ساتھ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۲۴
پڑوسی کے ساتھ
قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگ اچھا سلوک کرو رشتہ دار پڑوسی کے ساتھ، اجنبی پڑوسی کے ساتھ اور پاس بیٹھنے والے کے ساتھ اور مسافر کے ساتھ (النساء ۳۶) پڑوسی کے حقوق کا حکم اس تفصیل کے ساتھ دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا واجب ہے، خواہ وہ قریب کا پڑوسی ہو یا دور کا پڑوسی۔ خواہ وہ وقتی پڑوسی ہو یا مستقل پڑوسی، خواہ وہ گھر کا پڑوسی ہو یا ایسا پڑوسی ہو جو تعلیم یا کاروبار یا سفر کے دوران آدمی کے ساتھ ہو جائے۔ جب بھی اور جہاں بھی ایک آدمی دوسرے آدمی کے سبط میں آئے تو لازم ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کے انسانی حقوق کا لحاظ کرے، ایک شخص دوسرے شخص کو کسی بھی اعتبار سے شکایت کا موقع نہ دے۔ ایک مسلمان کو فرد کے اعتبار سے بھی اچھا پڑوسی بننا ہے، اور وسیع تر سطح پر قومی اعتبار سے بھی اسے اچھا پڑوسی ہونے کا ثبوت دینا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، کوئی بندہ مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے پڑوسی کے لیے، یا یہ فرمایا کہ اپنے بھائی کے لیے، وہی پسند کرے جو وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے (والذی نفسی بیدہ لا يؤمن عبد حتى يحبّ لجار أو قال لأخيه ما يحبّ لنفسه) ایک اور روایت کے مطابق، آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے شر سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو (لا يدخل الجنة من لا يأمن جاره بوائقہ) صحیح مسلم بشرح النووی ۱۷/۲ ایک حدیث میں ہے کہ : خير الاصحاب عند الله خيرهم لصاحبه وخير الجيران عند الله خيرهم لجاره۔ یعنی اللہ کے نزدیک رب سے اچھا ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے اچھا ہو اور اللہ کے نزدیک سب سے اچھا پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے اچھا ہو (الترمذی) آپ نے فرمایا : من كان يؤمن بالله فلا يؤذ جاره (جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو نہ ستائے البخاری) اسی طرح آپ نے فرمایا : من كان يؤمن بالله فليكرم جاره (جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے البخاری)