Al-Risala · May 1996 · page 25

سچائی

الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۲۵

سچائی

قرآن (الاحزاب) میں اہل ایمان کو سچ بولے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں (والصادقین والصادقات) کہا گیا ہے۔ یہ کسی مرد یا کسی عورت کی نہایت اعلیٰ انسانی صفت ہے کہ جب وہ بولے تو ہمیشہ سچ بولے۔ وہ اپنی زبان سے کبھی سچ کے خلاف کوئی بات نہ نکالے۔ یہی راستبازانہ کردار کسی انسان کے شایان شان ہے۔

اس سلسلہ میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں جو سچ کی اہمیت کو بتاتی ہیں۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علیکم بالصدق فان الصدق يهدى الى البر، واياكم والكذب فان الكذب يهدى الى الفجور (صحیح مسلم ، کتاب البر والصلۃ والآداب) یعنی تم ہمیشہ سچ بولو، کیوں کہ سچ بولنا آدمی کو نیکی کی طرف لے جاتا ہے۔ اور تم جھوٹ بولنے والے سے بچو، کیونکہ جھوٹ بولنا آدمی کو برائی کی طرف لے جاتا ہے۔

اس حدیث میں سچ بولنے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور اسی کے ساتھ اس کی حکمت بھی بتا دی گئی ہے۔ جب آدمی سچ بولنے کا اہتمام کرتا ہے تو اس کے اندر سچائی والی شخصیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے مزاج اور اس کی سوچ پر سچائی کا رنگ غالب آ جاتا ہے۔ اس کے اندر ایک ایسی روح پرورش پاتی ہے جو نفسیاتی پیچیدگی کی خرابیوں سے پاک ہو۔ اس طرح سچ بولنے کی صفت اس کو ہر اعتبار سے ایک سچا انسان بنا دیتی ہے۔

اس کے برعکس جس آدمی کا حال یہ ہو کہ وہ بولنے تو جھوٹ بولے، اس کی اندرونی شخصیت گندی ہوتی رہتی ہے۔ اس کے اندر پاک صاف روح کی پرورش نہیں ہوتی۔ وہ برائیوں میں لت پت ہوتا چلا جاتا ہے۔

اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ: احب الحديث الى اصدقہ (صحیح البخاری) یعنی سب سے زیادہ اچھی بات میرے نزدیک وہ ہے جو سچی بات ہو۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: التاجر الصدوق الامين مع النبيين (الترمذی، کتاب البیوع) یعنی سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن نبیوں کے ساتھ ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1996 All issues

Printed page