Al-Risala · May 1996 · page 26

حق رسانی

الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۲۶

حق رسانی

ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمانؓ اور حضرت ابو الدرداءؓ کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔ حضرت سلمان اور حضرت ابو الدرداء کا جب ساتھ ہوا تو حضرت سلمان نے دیکھا کہ ابو الدرداء دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات کو کثرت سے نمازیں پڑھتے ہیں۔ دوسری انسانی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے ان کے پاس زیادہ وقت باقی نہیں رہتا۔ حضرت سلمان نے حضرت ابو الدرداء کو اس سے منع کیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا کے حقوق کے ساتھ انسانوں کے حقوق بھی تمہارے اوپر ہیں۔ تم کو چاہیے کہ تم ہر حق دار کا حق ادا کرو (فاَعطِ کل ذی حق حقة) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ سلمان نے ٹھیک کہا (صدق سلمان) دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ سلمان فقیہہ ہیں۔ سلمان کو علم میں حصہ ملا ہے (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۱۱۴/۴ - ۲۴۷)

حق داروں کو ان کا حق پہنچانے کا یہ معاملہ اسلام میں اتنا سنگین ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ اگر تم نے دنیا میں حق دار کو اس کا حق نہ دیا تو قیامت کے دن تمہیں ان کا حق ادا کرنا ہوگا۔ لَتُؤَدُّنَّ الحقوق الی اہلها یوم القیامة (صحیح مسلم ، کتاب البر والصلة) یعنی موجودہ امتحان کی دنیا میں جو آدمی حقوق کی ادائیگی میں ناکام رہے گا وہ آنے والے فیصلہ کے دن شدید تر انداز میں اس کا بھگتان ادا کرنے پر مجبور ہوگا۔

حقوق کی ادائیگی کا یہ معاملہ کسی ایک چیز سے متعلق نہیں ہے بلکہ تمام چیزوں سے متعلق ہے۔ مثلاً گھر کا حق یہ ہے کہ آپ اپنے بیوی بچوں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ پڑوسی کا حق یہ ہے کہ آپ ان کے لیے کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہ پیدا کریں ۔ راستہ کا حق یہ ہے کہ آپ کوئی ایسا فعل نہ کریں جس سے دوسرے راستہ چلنے والوں کو تکلیف پہنچے۔ سماج کا حق یہ ہے کہ آپ تمام لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کریں۔ قوم کا حق یہ ہے کہ آپ اس کی صلاح و فلاح کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور کبھی اس سے غافل نہ ہوں۔

حقوق کی ادائیگی ایک مکمل نظریہ ہے اور اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1996 All issues

Printed page