رکھتا ہے پاک رہنے والوں کو) البقرہ ۲۲۲
الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۲۹
رکھتا ہے پاک رہنے والوں کو) البقرہ ۲۲۲
آدمی جب غلطی کرنے کے بعد شرمندہ ہوتا ہے اور دوبارہ سچائی کی طرف پلٹ آتا ہے تو اس عمل کو توبہ کہا جاتا ہے۔ توبہ کا یہ عمل آدمی کے اندرون کو پاک کر دیتا ہے۔ اسی طرح پانی باہر کی گندگی کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔ توبہ کے ذریعہ آدمی اپنی روح کو پاک کرتا ہے اور پانی کے ذریعہ اپنے جسم کو۔ اور دونوں ہی چیزوں کی اسلام میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔
حدیث میں ہے کہ (الطهور نصف الایمان صحیح مسلم، کتاب الطهارة) یعنی پاکیزگی آدھا ایمان ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : (ان الله نظيف يحب النظافة (الترمذی، کتاب الادب) یعنی اللہ نظیف ہے اور نظافت کو پسند کرتا ہے۔ ابن ماجہ، کتاب الطهارة میں ایک مستقل باب ہے جس کا عنوان ہے : باب ثواب الطهور (پاکی کے ثواب کا باب)
انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کو خصوصی طور پر حساسیت کی صفت عطا ہوئی ہے۔ اس لیے فطری طور پر انسان صفائی ستھرائی کو پسند کرتا ہے۔ اسلام چونکہ دین فطرت ہے ، اس لیے اس میں اس بات کی بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے کہ انسان ہمیشہ صاف ستھرا رہے۔ اس کا جسم ، اس کا لباس ، اس کا گھر ، اس کی ہر چیز میں ستھراپن دکھائی دے ۔
صفائی ستھرائی کی اسی اہمیت کی بنا پر اصحاب رسولؐ میں روزانہ غسل کا عام رواج تھا۔ موطا امام مالک (کتاب الطهارة) میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے صاحبزادے کی روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے باپ (عبداللہ بن عمر) ہر وضو سے پہلے غسل کرتے تھے ۔ اس طرح وہ روزانہ پانچ بار نہاتے تھے۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفانؓ کے بارہ میں روایت ہے کہ وہ ہر دن ایک بار نہاتے تھے (کان عثمان يغتسل كل يوم مرة) مسند احمد جسم اور روح کی صفائی اسلام کے تقاضوں میں سے ایک لازمی تقاضا ہے۔