بے مسئلہ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۳۲
قرآن میں مختلف الفاظ میں برار بار کہی گئی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو ہمیشہ مثبت رد عمل کا ثبوت دینا چاہیے۔ انہیں ہر حال میں منفی رد عمل سے بچنا چاہیے۔ ان کا سلوک دوسروں کے ساتھ عام حالات میں بھی بہتر ہونا چاہیے۔ اور اگر کوئی شخص یا گروہ اپنی طرف سے برے سلوک کا مظاہرہ کرے تب بھی خدا پرستوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ رد عمل کی نفسیات میں مبتلا نہ ہوں۔ اس وقت بھی وہ با اصول انسان کا ثبوت دیں۔ برائی کے جواب میں بھی وہ اپنے اچھے سلوک پر قائم رہیں۔
مذکورہ آیت کی تشریح میں حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں: أمر الله المؤمنين بالصبر عند الغضب والحلم عند الجهل والعفو عند الاساءة (تفسیر ابن کثیر ۲/ ۱۰۱) یعنی اللہ نے اس آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب انہیں غصہ آجائے تو وہ صبر و برداشت سے کام لیں۔ ان کے ساتھ جب کوئی شخص جہالت کرے تو وہ بردباری کا طریقہ اختیار کریں۔ اور جب ان کے ساتھ کوئی شخص با سلوک کرے تو وہ اسے معاف کر دیں۔
اس اسلامی سلوک کو ایک لفظ میں مثبت سلوک کہا جا سکتا ہے۔ یعنی جوابی معاملہ نہ کرتے ہوئے ہر ایک سے معتدل معاملہ کرنا۔ دوسروں کی روش خواہ کچھ بھی ہو، اپنے آپ کو ہمیشہ اعلیٰ انسانی سلوک پر قائم رکھنا۔
مومن وہ ہے جو بر تر حقیقتوں میں جینے لگے۔ جس کے سوچنے کی سطح عام انسانوں سے اوپر اٹھ جائے۔ ۔ ایسے انسان کے اندر بے پناہ تحمل کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کو اندرونی طور پر اتنا سکون مل جاتا ہے جو باہر کے کسی بھی واقعہ سے نہیں ٹوٹتا۔ جہاں لوگ غصہ کرتے ہیں وہاں اسے لوگوں کے اوپر ترس آتا ہے، جہاں لوگ بھڑک جاتے ہیں وہاں وہ سمندر کی طرح پر سکون بنا رہتا ہے۔