Al-Risala · May 1996 · page 31

بے مسئلہ

الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۳۱

بے مسئلہ

مومن ایک بے مسئلہ انسان ہوتا ہے۔ وہ ہر حال میں اور ہر ماحول میں مسٹر نو پرابلم بن کر رہتا ہے۔ اس معاملہ میں اس کی حساسیت اتنی بڑھی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ معمولی درجہ میں بھی کسی کے لیے مسئلہ پیدا کرنا پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا یہ حال تھا کہ ایک شخص گھوڑے پر سوار ہوتا اور اس کا کوڑا زمین پر گر پڑتا تو وہ کسی کو اتنی زحمت دینا بھی پسند نہیں کرتا تھا کہ وہ اس سے کہے کہ میرا کوڑا اٹھا کر مجھے دے دو۔ بلکہ خود گھوڑے سے اتر کر اپنا کوڑا اٹھاتا تھا (ابو داؤد ۱۲۴/۲) حدیث میں بتایا گیا ہے کہ سب سے اچھا مسلم وہ ہے جس کے شر سے لوگ مامون رہیں (ویؤمن شتر) ایک اور روایت میں ہے کہ مومن وہ ہے جو اللہ سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے (يتقى الله و يدع الناس من شره) صحیح البخاری، کتاب الجہاد البخاری (کتاب الادب) میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مسلم پر صدقہ ہے۔ یعنی اس کو دینے والا بننا چاہیے۔ پوچھا گیا کہ اگر کسی کے پاس کچھ نہ ہو۔ آپ نے فرمایا کہ وہ محنت کر کے کمائے اور پھر اس میں سے دے۔ پوچھا گیا کہ اگر وہ اب بھی کر سکے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ زبان سے اچھا کلمہ کہے۔ پوچھا گیا کہ اگر وہ اب بھی کر سکے تو آپ نے فرمایا : فليمسك عن الشر فانہ له صدقة۔ یعنی وہ اپنے شر کو دوسروں سے روکے۔ کیوں کہ یہ بھی ایک عطیہ ہے (فتح الباری ۴۶۲/۱۰) ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ کامل ایمان والامومن وہ ہے جو مجاہد بنے اور اللہ کے راستہ میں اپنے جان و مال کو خرچ کرے۔ اور اس کے بعد وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرے اور لوگ اس کے شر سے بچے ہوئے ہوں (قد کفی الناس شره) سنن ابی داؤد ۵/۳ حدیث کی کتابوں میں کثرت سے اس قسم کی تعلیمات آئی ہیں۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ سماج میں رہنے والے ایک مسلمان کے لیے کردار کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو نفع پہنچائے۔ اس کے بعد اسلامی کردار کا کم سے کم معیار یہ ہے کہ وہ پوری طرح بے ضرر بنا ہوا ہو، وہ کسی کے لیے کسی قسم کا کوئی چھوٹا یا بڑا مسئلہ پیدا نہ کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1996 All issues

Printed page