قابل پیشین گوئی کردار
الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۳۵
قابل پیشین گوئی کردار
سب سے بہتر انسان کون ہے۔ اسلام کے نزدیک سب سے بہتر انسان وہ ہے جو قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا حامل ہو۔ جس کے متعلق پیشگی طور پر یقین کیا جاسکے کہ جب بھی اس سے سابقہ پڑے گا اس سے اچھائی ہی کا تجربہ ہوگا، جب بھی اس سے کوئی معاملہ پیش آئے گا وہ دوسروں کے لیے ایک سچا انسان ثابت ہوگا۔
روایات میں آتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ایک مجلس کے پاس کھڑے ہوئے۔ آپ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ کیا میں تم کو تمہارے اچھے شخص اور تمہارے برے شخص کے بارہ میں نہ بتاؤں۔ یہ سن کر لوگ خاموش رہے۔ تب آپ نے تین بار اپنے اس سوال کو دہرایا۔ اس کے بعد ایک شخص نے کہا کہ کیوں نہیں، اے خدا کے رسول ، آپ ہم کو ہمارے اچھے شخص اور ہمارے برے شخص کے بارہ میں ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا کہ تم میں اچھا شخص وہ ہے جس سے بھلائی کی امید کی جائے اور جس کے شر سے لوگ مطمئن ہوں (خیركم من يُرجى خيره ويوْمَن شره) الترمذی، کتاب الفتن اس حدیث کے مطابق بہترین انسان وہ ہے کہ جب کسی سے اس کا سابقہ پیش آئے تو اس سے دوسرے کو میٹھا بول ملے۔ وہ دوسرے کے لیے نفع بخش ثابت ہو۔ وہ دوسرے کو خوشی کا تحفہ دے سکے۔ اس سے دوسرے شخص کو ہمیشہ انصاف کا تجربہ ہو۔ وہ دوسرے کے حق میں ایک با اصول اور باکردار انسان ثابت ہو۔
اس کا یہ قابل پیشین گوئی کردار اس وقت بھی باقی رہے جب کہ دوسرے شخص کی طرف سے اس کو کوئی شکایت پہنچی ہو۔ جب کہ دوسرے شخص سے اس کو زیادتی کا کوئی تجربہ ہوا ہو۔ ایسے ناموافق حالات میں بھی اس کا حق پسندی کا مزاج باقی رہے۔ وہ اشتعال انگیزی کا جواب بھی صبر وسکون کے ساتھ دے۔ اس کے متعلق یہ امید کی جائے کہ دوسروں کی طرف سے برے سلوک کے باوجود وہ اپنے اصول کے مطابق ان کے ساتھ حسن سلوک کی روش پر قائم رہے گا۔ اس کا کردار ہمیشہ اعلیٰ انسانی امید پر پورا اترے گا۔