Al-Risala · May 1996 · page 36

رحمت کلچر

الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۳۶

رحمت کلچر

اسلامی کلچر رحمت کلچر ہے۔ اسلام میں رحمت کا پہلو اتنا زیادہ نمایاں ہے کہ وہ ان لوگوں کی پوری زندگی پر چھا جاتا ہے جو اسلام کے اصولوں کو پوری طرح اختیار کر لیں۔

اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے ملے تو وہ کہے السلام علیکم ورحمۃ اللہ (تمہارے اوپر اللہ کی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو)، ایک شخص کو چھینک آئے تو وہ کہے: الحمد للہ۔ اور سننے والا کہے: یرحمك الله (اللہ تمہارے اوپر رحمت کرے)، نماز کے لیے مسجد میں داخل ہو تو کہے : اللهم افتح لي ابواب رحمتك (اے اللہ! مجھ پر رحمت کے دروازے کھول دے)، اسی طرح نمازی لوگ جب نماز کو ختم کرتے ہیں تو وہ اپنے دائیں اور بائیں منہ پھیر کر کہتے ہیں: السلام علیکم ورحمۃ اللہ (تم لوگوں کے اوپر اللہ کی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو)

اس طرح ہر موقع پر اور ہر مرحلہ میں سلامتی اور رحمت کے کلمات لوگوں کے منہ سے نکلتے ہیں۔ رحمت کے انداز میں سوچنا اور رحمت کے انداز میں بولنا یہ اہل ایمان کی امتیازی صفت بن جاتی ہے۔ ان کی پوری زندگی رحمت والفت کے تقاضوں میں ڈھل جاتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کثرت سے ایسے کلمات منقول ہیں جن کا آغاز اس طرح کے الفاظ سے ہوتا ہے : رحم الله امراً (الترمذی، کتاب الصلاة) رَحِمَ الله رَجُلاً (البخاری، کتاب البیوع) رَحِمَ الله (الترمذی، کتاب التفسیر) رحم الله امرأة (النسائی، باب قيام الليل) يرحم الله نساء المهاجرات (البخاری، کتاب التفسیر) میں رحمت الله (البخاری، کتاب الانبیاء) وغیرہ۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام لوگوں کے اندر کس قسم کا مزاج بنانا چاہتا ہے۔ وہ در اصل رحمت ومحبت کا مزاج ہے۔ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ ہر موقع پر ایک آدمی کے اندر دوسرے آدمی کے لیے رحمت کے جذبات ابھریں۔ ہر موقع پر ایک آدمی دوسرے آدمی کو رحمت والفت کا تحفہ پیش کرے ۔ حتیٰ کہ اظہار اختلاف کا موقع ہو تب بھی مومن کی زبان سے ایسے الفاظ نکلتے ہیں کہ : خدا تمہارے اوپر رحم کرے، تم نے ایسا کیوں کر کہا۔

خدا رحیم ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے بھی رحیم بن کر دنیا میں رہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1996 All issues

Printed page