خیرپسند
الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۳۷
خیرپسند
زید بن مہلہل نجد میں بعثت نبوی سے پہلے پیدا ہوئے۔ وہ شاعر تھے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے شمشیر زنی اور گھوڑے کی سواری میں شہرت حاصل کی۔ چنانچہ وہ زید الخیل کہے جانے لگے۔ خیل عربی زبان میں گھوڑے نیز گھوڑے سوار کو کہتے ہیں۔
انھوں نے اسلام سے پہلے فارس (شہ سوار) اور شمشیر زنی کی تعریف پر ایک پر جوش نظم کہی تھی۔ اس میں وہ اپنے قبیلہ کے بارہ میں کہتے ہیں کہ میری قوم لوگوں کی سردار ہے۔ اور سردار ہی اس وقت قائد بنتا ہے جب کہ شعلہ بار ہتھیلیوں نے جنگ کی آگ کو بھڑکا دیا ہو:
وقومی رؤوس الناس والرأس قائد إِذا الحرب شبتها الأكُفُّ المساعر زید الخیل ہجرت کے بعد مدینہ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید الخیل کا نام پسند نہیں کیا۔ آپ نے ان کا نام بدل کر زید الخیر رکھ دیا۔ ۹ ھ میں مدینہ میں ان کا انتقال ہوا۔
اس واقعہ سے اسلام کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ اسلام کا مقصد آدمی کو "زید شہ سوار" بنانا نہیں ہے بلکہ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ آدمی "زید صاحب خیر" بنے۔ قدیم عرب میں گھوڑا دوڑانا اور تلوار کا کمال دکھانا ہیروانہ کام سمجھا جاتا تھا۔ پیغمبر اسلام نے ان کے جذبات کو موڑا۔ اور ان کو یہ ذہن دیا کہ وہ خیر کے حامل بنیں، وہ خیر کے میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیں۔ وہ لوگوں کو موت کا تحفہ نہ دیں بلکہ وہ لوگوں کو زندگی کا تحفہ دینے کی کوشش کریں۔ آجکل کی زبان میں اگر کہا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کا خاص مقصد تخلیقی (creative) انسان پیدا کرنا ہے۔ اللہ پر ایمان آدمی کے اندر تخلیقی اوصاف کو جگا دیتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ عام سوچ سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ اس کا کردار دوسرے لوگوں کے کردار سے بلند ہو جاتا ہے۔ وہ زمین میں رہتے ہوئے ایک آسمانی انسان بن جاتا ہے۔
مومن کا کام زید الخیل بننا نہیں بلکہ زید الخیر بننا ہے۔ یہی مومنانہ شخصیت کا خلاصہ ہے۔