Al-Risala · May 1996 · page 47

خدمتِ عام

الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۴۷

خدمتِ عام

قرآن میں اعلیٰ انسان کی جو صفات بتائی گئی ہیں ، ان میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لوگ جن کے مالوں میں مقرر حصہ ہے ، سوال کرنے والے کے لیے بھی اور محروم کے لیے بھی (والذين في اموالهم حق معلوم ۔ للسائل والمحروم) المعارج ۲۴-۲۵ یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ دوسروں کے کام آئے ۔ وہ دوسروں کی خدمت کر سکے۔ اسلام آدمی کے اس جذبہ کو آخری حد تک جگا دیتا ہے۔ جو آدمی مومنانہ اور مسلمانہ جذبات میں جی رہا ہو ، وہ سمجھنے لگتا ہے کہ میرا مال یا میری چیزیں صرف میری نہیں ہیں۔ اس میں دوسروں کا بھی حق ہے۔ وہ نہ صرف ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس سے سوال کریں۔ بلکہ وہ ان کا بھی مددگار بن جاتا ہے جو ضرورت مند ہیں ، اگر چہ انھوں نے کسی وجہ سے سوال نہیں کیا۔

قرآن میں محروم کا جو لفظ آیا ہے ، اس کی تشریح امام مالکؒ نے یہ کی ہے کہ اس سے مراد وہ ہے جو رزق سے محروم رہا (انہ الذی يحرم الرزق) تفسیر القرطبی، ۳۹/۱۰ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے ایک جانور کو دیکھا جو بھوکا تھا اور بظاہر اس کے کھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بھی انھیں میں سے ہے جس کو قرآن میں محروم کہا گیا ہے۔ (القرطبی ،۳۹/۱۰) مفسر الرازی نے مزید توسیع دی ہے اور لکھا ہے کہ اس میں درخت بھی شامل ہیں۔ اگر کوئی درخت پانی نہ ملنے کی وجہ سے سوکھ رہا ہو تو وہ بھی محروم ہے ، اور اس کو پانی پہنچانا اہل ایمان کی ذمہ داری ہے۔

ایمان جب کسی آدمی کے دل میں جگہ پاتا ہے تو اس کے اندر خدمتِ عام کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ نہ صرف سائل کی ضرورت پوری کرنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے ، بلکہ اس کا احساس یہ ہو جاتا ہے کہ ہر محروم کا اس کے اوپر حق ہے ، خواہ وہ انسان ہو یا جانور یا کوئی درخت ۔ اسلام آدمی کو انتہائی سنجیدہ اور انتہائی حساس بنا دیتا ہے۔ ایسا آدمی سارے لوگوں کو اپنا سمجھنے لگتا ہے ، وہ جان لیتا ہے کہ اس کا مال خدا کا عطیہ ہے۔ اس کا یہ احساس اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اس کو خدا کی راہ میں خرچ کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1996 All issues

Printed page