رحمت ِ سیف
الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۴۸
رحمت ِ سیف
قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین (الانبیاء، ١٠٧) کہا گیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ انا محمد --- ونبی الرحمہ (صحیح مسلم بشرح النووی ۱۰۵/۱۵) ایک طرف پیغمبر اسلام کی حیثیت کے بارہ میں اس قسم کے کھلے بیانات ہیں۔ دوسری طرف حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میرا رزق میرے نیزہ کے سایہ کے نیچے رکھا گیا ہے (جُعِلَ رزقی تحت ظِلِّ رمحی) ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: بعثت بین یدی الساعۃ مع السیف۔ یعنی میں قیامت سے پہلے تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۱۶/۶ - ۱۱۵) یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے مختلف نظر آتی ہیں۔ مگر ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ در حقیقت دو الگ الگ پہلو ہیں۔ رحمت کی بات ایک پہلو سے کہی ہے اور سیف کی بات دوسرے پہلو سے ۔
اصل یہ ہے کہ صرف پیغمبر اسلام ہی رحمت کے پیغمبر نہ تھے۔ بلکہ خدا نے جتنے پیغمبر بھیجے وہ سب پیغمبر رحمت ہی تھے۔ سب کے سب دینِ رحمت ہی لے کر آئے ۔ مثال کے طور پر قرآن میں حضرت موسیٰ کی کتاب کو رحمت فرمایا گیا ہے (ہود، ۱۷) مگر فرق یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کے ساتھ کوئی طاقت و ٹیم تیار نہ ہو سکی جو پیغمبروں کے مشن کے حق میں مؤثر طور پر حمایت اور دفاع کا کام کر سکے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلے پیغمبروں کے مشن کو مخالفین نے عملی طور پر آگے بڑھنے نہیں دیا۔ پچھلے پیغمبروں کے زمانہ میں خدا کا دین صرف فکری تحریک کے مرحلہ میں رہا، وہ فکری انقلاب کے مرحلہ تک نہیں پہنچا۔ اس کے برعکس پیغمبر اسلام کو خدا کی مدد سے ” اصحابِ سیف “ (بالفاظِ دیگر ، طاقت و حمایتی گروہ حاصل ہوگیا۔ چنانچہ مخالفین نے جب جارحیت کر کے آپ کے پر امن مشن کو دبانا اور مٹانا چاہا تو آپ بھی اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس پوزیشن میں تھے کہ ان کی جارحیت کا موثر جواب دے کر ان کے مخالفانہ عزائم کو ناکام بنادیں۔
مذکورہ قسم کی احادیث میں نیزہ اور تلوار کا لفظ آپ کی دفاعی طاقت کو بتانے کے لیے ہے، نہ کہ آپ کی اصل پیغمبرانہ حیثیت کو بتانے کے لیے۔