Al-Risala · May 1996 · page 50

بین الالالالالاقوامی رواج

الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۵۰

بین الالالالالاقوامی رواج

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں عرب کے دو آدمیوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ ایک یمامہ کا مسیلمہ بن حبیب، اور دوسرا صنعاء کا اسود بن کعب عنسی۔ مسیلمہ نے ۱۰ھ میں ایک خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا : اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد کے نام، سلام علیک ، اما بعد، بے شک میں نبوت کے معاملہ میں آپ کے ساتھ شریک کیا گیا ہوں ، اس لیے نصف زمین ہمارے لیے اور نصف زمین قریش کے لیے ۔ مسیلمہ کی طرف سے دو قاصد اس کا یہ خط لے کر مدینہ آئے۔ ان کا نام ابن النواحہ اور ابن اثال تھا۔ اس کے بعد روایت میں آتا ہے : قال سمعت رسول الله صلی اللہ عليه وسلم | راوی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حين جاءه رسولا مسيلمة الكذاب | کو یہ کہتے ہوئے سنا جب کہ مسیلمہ کذاب کے دونوں بكتابه يقول لهما : وانتما تقولان | قاصد اس کا خط لے کر آئے، کیا تم دونوں بھی وہی مثل ما يقول - قالا نعم - فقال أما | کہتے ہو جو وہ کہتا ہے ۔ دونوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ والله لولا أن الرسل لا تقتل لضربتُ | نے فرمایا کہ خدا کی قسم ، اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قاصدوں أعناقكما - | کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردنیں کٹوا دیتا۔

راوی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ : فمضت السنة بان الرسل لا تقتل۔ یعنی پھر یہ سنت جاری ہو گئی کہ قاصدوں کو قتل نہ کیا جائے ( البدایہ والنہایہ ۵ / ۵۱-۵۲) اس سنت نبوی سے اسلام کا ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتا ہے ۔ وہ یہ کہ بین اقوامی معاملات میں بین اقوامی رواج پر عمل کیا جائے گا۔ ہر زمانہ میں بین اقوامی تعلقات کے لیے کچھ رواج ہوتے ہیں ۔ موجودہ زمانہ میں بھی اس قسم کے بہت سے رواج ہیں ۔ اب اقوام متحدہ نے ان کو زیادہ منظم صورت دے دی ہے۔ اس قسم کے تمام رواج مسلم ملکوں میں بھی اسی طرح قابل احترام ہوں گے جس طرح غیر مسلم ملکوں میں ان کو قابل احترام سمجھا جاتا ہے ۔ البتہ اگر اس قسم کے معاملات میں کوئی ایسی چیز رواج پا جائے جو صراحۃً حرام ہو۔ مثلاً بین اقوامی میٹنگوں میں شراب پیش کرنا، تو اس مخصوص جزو کی حد تک اس کی پیروی نہیں کی جائے گی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1996 All issues

Printed page