جنگ کا حکم
الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۴۹
جنگ کا حکم
وقاتلوا فی سبيل اللہ الذين يقاتلونکم اور اللہ کے راستے میں ان لوگوں سے لڑو جو تم ولا تعتدوا ان اللہ لا يحب المعتدين سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو۔ بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
اعتداء کے معنی ہیں زیادتی کرنا ، تجاوز کرنا۔ یہاں یہ لفظ جارحیت (aggression) کے معنی میں ہے۔ الراغب الاصفہانی نے یہاں اس کو جارحیت کے آغاز (الاعتداء علی سبيل الابتداء) کے معنی میں لیا ہے (المفردات فی غريب القرآن ، ۳۲۷)
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (ایھا الناس ، لا تتمنوا لقاء العدو و سلوا اللہ العافية ۔ یعنی تم لوگ دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو۔ اور اللہ سے عافیت مانگو (فتح الباری بشرح صحیح البخاری (۱۳۰/۶)
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام مکمل طور پر امن کا مذہب ہے۔ اسلام میں امن کی حیثیت حکم عام کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف استثنا کی۔ یہ استثنائی حکم اس وقت کے لیے ہے جب کہ کسی نے یک طرفہ طور پر جنگ کا آغاز کر دیا ہو۔ اس وقت دفاع کے طور پر جنگ کی جائے۔ مگر خود سے جنگ چھیڑنے کی اجازت اسلام میں نہیں ۔
تاہم یہ دفاع بھی ایک ضروری شرط کے ساتھ مشروط ہے، اور وہ اعراض ہے۔ سنت رسول کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فریق ثانی اگر جنگ کے حالات پیدا کرے تب بھی ابتدائی کوشش اسی کی ہوگی کہ عملی طور پر جنگ کی نوبت نہ آئے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ جنگ سے بچنے کی ہر کوشش ناکام ہو جائے اور فریق ثانی کی طرف سے جنگ کا عملی آغاز کر دیا جائے تو اس وقت آخری چارہ کار کے طور پر جنگ کی جائے گی۔
اسلام ملک گیری کا مذہب نہیں۔ وہ مکمل طور پر ایک دعوتی مذہب ہے۔ اور دعوت کا کام ہمیشہ امن چاہتا ہے، جنگ کا ماحول دعوتی کام کے لیے ہرگز مناسب نہیں۔ امن میں دعوت کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور جنگ میں دعوت کا کام معطل ہو جاتا ہے۔