Al-Risala · January 1996 · page 24

دور جدید کا آغاز

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۲۴

مسلم اسپین کی ترقیاں اس بات کی علامت تھیں کہ اب دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جب کہ ’’سیف‘‘ کے مقابلے میں ’’علم‘‘ قوت کا نشان ہوگا۔ یہ ترقیاتی سفر پندرھویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کے دائرہ سے نکل کر لاتینی یورپ کے دائرہ میں پہنچ گیا۔ مگر بظاہر شاہ ولی اللہ کے لیے یہ سب کچھ لامعلوم تھا۔

یورپ کے مختلف ملکوں (اٹلی، فرانس، انگلینڈ، وغیرہ) میں مذکورہ علمی ترقی اضافے کے ساتھ جاری رہی۔ یہاں تک کہ مختلف یورپی قوموں میں وہ باہمی رقابت پیش آئی جس کو نوآبادیاتی کش مکش (colonial struggle) کہا جاتا ہے۔ آخرکار ان قوموں کے درمیان مشہور سات سالہ جنگ (Seven Years’ War) پیش آئی۔ یہ جنگ ۱۷۵۶ء سے لے کر۱۷۶۳ تک جاری رہی۔ ۱۷۶۳ء میں معاہدہ پیرس ہوا جس نے اس نوآبادیاتی جنگ کا آخری فیصلہ برطانیہ کے حق میں کیا۔ برطانیہ نے شمالی امریکہ اور انڈیا پر فتح حاصل کرلی۔ اس کے بعد برطانیہ کو سمندر پار کی نوآبادیات میں غیرمتنازع قائد کی حیثیت حاصل ہوگئی :

By the Treaty of Paris (February 10, 1763), which settled the colonial aspects of the war, Britain won North America and India and became the undisputed leader in overseas colonization. (16/580)

پندرھویں صدی سے لے کراٹھارویں صدی تک کے دور کو کھوج کا دور (age of exploration) کہا جاتا ہے۔ ان صدیوں میں تاجر، مشنری، سیاح، فن کار، بحری ماہرین اور سائنسی علماء مسلسل اپنی سرگرمیاں جاری کیے ہوئے تھے۔ اس کا نتیجہ یورپی قوموں کی وہ عالمی توسیع تھی جس کو نوآبادیاتی نظام کہا جاتا ہے۔ یہ سرگرمیاں اس حد تک مؤثر تھیں کہ انھوں نے سمندروں کو پار کرکے ۱۶۱۱ء میں مسولی پٹم پر قبضہ کر لیا۔ ۳۹ ۱۶ء میں مدراس اور ۱۶۶۱ء میں بمبئی ان کے قبضے میں آگیا، وغیرہ (4/880-887)

اس طرح شاہ ولی اللہ کی پیدائش سے بھی پہلے انڈیا کے تقریباً تمام سو احل پر یورپی قومیں قابض ہوچکی تھیں۔ مغل سلطنت سمٹ کر محدود بری دائرہ میں باقی رہ گئی تھی۔ برصغیر ہند کے وسیع تر دائرہ میں نوآبادیاتی طاقتوں کا پرچم لہرا رہا تھا۔ یہ سب کچھ جدید معلومات، جدید فنی ترقیوں اور جدید وسائل کے ذریعہ وجود میں آیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues

Printed page