Al-Risala · January 1996 · page 25

موجودہ صورت حال

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۲۵

مگر شاہ ولی اللہ دہلوی کی کسی تحریر سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ان تاریخی تبدیلیوں سے باخبر تھے ۔ شاہ صاحب کی مشہور ترین کتاب حجۃ اللہ البالغہ پہلی بار صرف انیسویں صدی (۱۸۷۰) میں چھپ سکی ۔ جب کہ یورپ میں پرنٹنگ پریس کا استعمال پندرھویں صدی عیسوی میں شروع ہو چکا تھا یہ ایک علامتی فرق ہے جو بتاتا ہے کہ شاہ صاحب اور ان کے اصحاب کا فکر کس طرح عالمی فکر سے کئی سو سال پیچھے تھا۔

موجودہ صورت حال

خلافت عباسی کے دور میں جب بیرونی افکار و علوم سے مسلمانوں کا مقابلہ پیش آیا تو انھوں نے بہت جلد ان کے مقابلہ میں اسلام کا موقف متعین کر لیا۔ مگر یہی بات موجودہ زمانہ میں حاصل نہ ہوسکی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بنو عباس کے زمانہ میں مسلمان فاتحانہ نفسیات کے حامل تھے۔ انھوں نے کھلے ذہن (عقلیة الانفتاح) سے افکار و علوم کا جائزہ لیا۔

اس کے برعکس موجودہ زمانہ کی تبدیلیاں اس وقت پیش آئیں جب کہ مسلمان مغلوبانہ نفسیات میں مبتلا ہو چکے تھے۔ چنانچہ اب انھوں نے ہر چیز کو شبہ کی نظر سے دیکھا ۔ جب بھی ان کا مقابلہ مغربی قوموں سے پیش آیا تو فوراً وہ ان کے لیے عزت نفس کا سوال بن گیا۔ یہی وہ نفسیاتی فرق ہے جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ ماضی کی تبدیلیوں کو اپنی غذا بنانے والے لوگ جدید تبدیلیوں کو صرف اپنا حریف سمجھ کر اس سے دور ہو گئے ۔

ایسی حالت میں یہ بالکل فطری بات تھی کہ ہمارے علماء اور دانشوروں کو جدید حقائق کی کوئی خبر نہ ہو سکے ۔ سازش کا نظریہ یہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ موجودہ صورت حال کا کوئی حقیقی سبب نہیں۔ وہ صرف مکر و فریب کا ایک نتیجہ ہے۔ جب کہ علمی تحقیق کے لیے ضروری ہے کہ پیش آمدہ واقعہ کو آپ حقیقی تاریخی اسباب کے تحت پیش آنے والا واقعہ سمجھیں ۔ سازش کے اس غیر واقعی نظریہ نے دورِ جدید کے مسلمانوں سے یہ جذبہ چھین لیا کہ وہ غیر جانب دارانہ انداز میں دوسری قوموں کا مطالعہ کریں۔ اور ان کی قوت اور ترقی کے اسباب کو جاننے کی کوشش کریں ۔ اپنے موجودہ ذہن کے تحت وہ زیادہ سے زیادہ بس " سازشوں " کی کھوج میں مصروف ہو سکتے تھے۔ فطری حقائق اور تاریخی عوامل کی تلاش کا جذبہ ان کے اندر پیدا نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ ان کے نزدیک وہ سرے سے موجود ہی نہ تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues

Printed page