اجنبی دین
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۵۷
اجنبی دین
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں نقل ہوئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بدأ الاسلام غریباً وسیعود کما بدأ غریباً فطوبى للغرباء (صحیح مسلم بشرح النودی ۱۷۶/۲) یعنی اسلام جب شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا۔ اور پہلے کی طرح دوبارہ وہ اجنبی ہو جائے گا۔ پس خوش خبری ہے اجنبیوں کے لیے۔
آغاز میں اسلام کس طرح اجنبی تھا۔ مکہ میں وہ امت ِابراہیم میں ظاہر ہوا ۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو پیغمبر ابراہیم سے منسوب تو کرتے تھے مگر عملاً وہ اپنے خود ساختہ بزرگوں کے دین پر قائم تھے۔ بظاہر وہ اپنے کو موحد سمجھتے تھے مگر انھوں نے وسیلہ اور شفاعت کا عقیدہ ایجاد کر کے بڑے خدا کے ساتھ بہت سے چھوٹے چھوٹے خدا بنا لیے تھے۔ وہ خدا کی عبادت کے بھی مدعی تھے مگر خدا کی عبادت کے ساتھ انھوں نے بہت سی نئی نئی رسمیں بھی شامل کر لی تھیں۔ وغیرہ۔ ابتدائی دور کی اجنبیت کی اس مثال سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بعد کے دور کی اجنبیت کیسی ہوگی۔ وہ دوبارہ یہ ہوگی کہ لوگ اپنے دین کو خدا اور رسولؐ سے لینے کے بجائے اپنے مزعومہ اکابر سے لینے لگیں گے۔ ان کے یہاں دین کی روح ختم ہو جائے گی البتہ دین کی صورت کی دھوم مزید اضافہ کے ساتھ جاری رہے گی۔ اسلام ان کی زندگی کا رہنما بننے کے بجائے ان کی قومی اور مادی زندگی کا ضمیمہ بن جائے گا۔ خدائی ہدایت کے الفاظ تو ان کے یہاں باقی رہیں گے مگر ہدایت الہی کی معنویت ان کے یہاں سے رخصت ہو جائے گی۔ خدا کا خوف اور آخرت کی تڑپ والا دین ان کے درمیان موجود نہ ہوگا، البتہ ظاہر داری والا دین خوب فروغ پائے گا۔
جب امت مسلمہ کا یہ حال ہوگا تو وہ سچے دین سے نا آشنا ہو جائے گی۔ اس کے سامنے جب دین کو اس کی اصل ابتدائی حالت میں پیش کیا جائے گا تو اس کو وہ ایک اجنبی دین معلوم ہوگا۔ وہ اسلام کے نام پر اسلام کا انکار کر دے گی۔ ایسے لوگ اپنے بنائے ہوئے دینی ڈھانچہ کو جانیں گے لیکن خدا اور رسولؐ کے دین کو پہچاننے کے لیے وہ عاجز ثابت ہوں گے۔
مبارک ہیں وہ لوگ جو اجنبیت کے دور میں خدا کے دین کو پہچانیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues