قانونِ فطرت
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۵۹
قانونِ فطرت
۱۵ جنوری ۱۹۹۶ء کو سہارن پور (امیٹھا) کے ڈاکٹر شاہد صابری سے ملاقات ہوئی۔ (Tel. 013292-5229) انھوں نے حکیم انور صاحب کے حوالے سے ایک واقعہ بتایا۔ حکیم انور صاحب کا مطلب امیٹھا میں ہے۔ ان کا تعلق گنگوہ سے بھی ہے اور وہ اکثر وہاں جاتے رہتے ہیں۔ ۱۹۹۱ء کا واقعہ ہے جب کہ اتر پردیش میں رتھ یاترا کی دھوم تھی۔ حکیم انور صاحب گنگوہ کی ایک سڑک سے گزر رہے تھے۔ اس سڑک کے کنارے ایک صوفی کا مزار ہے جو بابڑی والے پیر کے نام سے مشہور ہیں۔ اسی وقت ایک مقامی ہندو لالہ اشوک بھاردواج (گرولی روڈ، گنگوہ) وہاں سے گزرے۔ مزار کے پاس پہنچ کر وہ رکے۔ اپنے روایتی طریقہ کے مطابق، انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ لیے اور دیر تک ادب و احترام کے ساتھ مزار کے سامنے کھڑے رہے۔
لالہ اشوک بھاردواج کا تعلق آرایس ایس سے ہے۔ حکیم انور صاحب کو یہ منظر دیکھ کر تعجب ہوا۔ آگے بڑھ کر انہوں نے ان سے کہا کہ لالہ جی، عام مسلمانوں کے تو آپ دشمن ہیں۔ مگر اس قبر والے کے سامنے آپ ہاتھ جوڑ رہے ہیں، حالاں کہ وہ بھی مسلمان تھے۔ لالہ اشوک بہار دواج نے جواب دیا: آپ بھی اس قبر والے مسلمان جیسے بن جائیے، ہم آپ کے لیے بھی ہاتھ جوڑنے لگیں گے۔ ہندوؤں کا یہ احترام صرف گنگوہ کے مدفون بزرگ کے لیے نہیں ہے بلکہ تمام ہندوستانی صوفیوں کے لیے ہے جس کا نمونہ جگہ جگہ ان کے مزاروں پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اب غور کیجیے کہ صوفیوں اور موجودہ مسلمانوں میں وہ کون سا خاص فرق ہے کہ ہندو موجودہ مسلمانوں سے بیزار ہے اور عین اسی وقت وہ مسلم صوفیوں سے محبت کرتا ہے۔ اس کا بنیادی سبب صرف ایک ہے ـــــ ان مسلم صوفیوں نے ہندو کے مقابلہ میں کبھی کوئی احتجاج یا مطالبہ نہیں کیا۔ جب کہ موجودہ مسلمان پچھلے پچاس سال سے اپنے نااہل لیڈروں کی رہ نمائی میں ہندوؤں سے احتجاج اور مطالبہ کی مہم جاری کیے ہوئے ہیں۔ بے نیازی اور قناعت کرنے والے آگے آگے لوگ جھکتے ہیں اور شکایت اور مطالبہ کرنے والوں سے لوگ بیزار ہو جاتے ہیں۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور فطرت کے قانون میں کوئی استثناء نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues