نصرت کا قانون
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۶۰
نصرت کا قانون
قرآن میں ایک طرف تو توکل علی اللہ کی تعلیم دی گئی ہے (الاحزاب ۳) اور دوسری طرف فرما کہ خذوا حذركم (النساء، ۷۱)، پہلی آیت کو اگر مطلق معنوں میں لیا جائے تو مومن کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ ہر معاملے میں خدا پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائے۔ کیوں کہ جب اصل حقیقت یہ ہو کہ جو کچھ ہوتا ہے، خدا کے کیے سے ہوتا ہے تو اس کے بعد انسان کی اپنی تدبیر ایک غیر ضروری چیز معلوم ہونے لگتی ہے۔ بلکہ وہ اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ آدمی کو خدا کی مدد پر پورا بھروسہ نہیں۔
اسی طرح دوسری آیت کو اگر اس کے لفظی اور ظاہری مفہوم کے اعتبار سے لیا جائے تو مومن کو بھی ٹھیک ویسے ہی اپنے بچاؤ کی یا اپنے معاملات کو درست کرنے کی تدبیر کرنا چاہیے جیسے کہ عام دنیا دار لوگ کرتے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیت کو اگر اس کے پورے مفہوم میں لیا جائے تو دوسری آیت غیر متعلق ہے۔ اور اگر دوسری آیت کو اس کے پورے مفہوم میں لیا جائے تو پہلی آیت کی مطابقت دوسری آیت کے ساتھ نا قابل فہم نظر آنے لگتی ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں میں کوئی تضاد نہیں۔ یہ ایک ہی معاملہ کے دو پہلو ہیں۔ توکل علی اللہ کی آیت خدا کی نسبت سے ہے اور خذوا حذرکم کی آیت بندے کی نسبت سے۔ اصل یہ ہے کہ دنیا میں خدا کی جو مدد آتی ہے، وہ ہمیشہ اسباب کے پردے میں آتی ہے۔ اسباب کا پردہ ہٹا کر براہ راست انداز میں خدا کی مدد کبھی نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کو اپنی استطاعت کے مطابق پوری تدبیر کرنی پڑتی ہے۔ اگر وہ تدبیر نہ کرے تو گویا یا اس نے وہ حالات ہی فراہم نہیں کیے جس کے قالب میں اس کے لیے خدا کی مدد اترتی۔
یہ دو طرفہ عقیدہ آدمی کے اندر بے پناہ اعتماد پیدا کر دیتا ہے۔ ایک طرف وہ تدبیر میں کمی نہیں کرتا کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ خدا کی مدد جب بھی آئے گی تدبیر ہی کے اندر سے آئے گی۔ دوسری طرف اس کو اپنی کامیابی کا بے پناہ یقین ہوتا ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ جب میں نے تدبیر کی شرط پوری کر دی تو خدا کی طرف سے آنے والی مدد بھی ضرور آکر رہے گی۔
مومن کوشش کے معاملہ میں مجاہد ہوتا ہے اور نتیجہ کے معاملہ میں متوکل۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues