جوابات
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۱۵
ہوں گے اور ہر جگہ مل حکومتوں سے ٹکرارہے ہیں۔
اسلامی نظام ہمیشہ اس وقت قائم ہوتا ہے جب اس کے لیے عوامی سطح پر موافق ماحول بنایا جا چکا ہو ملاحظہ ہو حضرت عائشہ کی روایت (البخاری، باب تالیف القرآن) موجودہ اسلام پسند حالات کو سازگار بنائے بغیر اقتدار پر قبضہ کر کے اسلامی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں، اس لیے اسلام تو قائم نہیں ہورہا ہے۔ البتہ ہر جگہ ضد اور نفرت بھڑک رہی ہے۔ ہر جگہ اسلام سے بیزاری پیدا ہورہی ہے۔
ابن خلدون نے لکھا ہے کہ : سأل رجل عليا رضى الله عنه ما بال المسلمين، اختلفوا عليك ولم يختلفوا على ابى بكر وعمر - فقال لان ابابكر وعمر كانا واليين على مثلى وانا اليوم وال على مثلك (صفحه ٤١١)
خلیفہ چہارم کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایک صحابی رسول حاکم ریاست ہو تب بھی اجتماعی نظام کو درست طور پر چلانے کے لیے ضروری ہے کہ امثال علی کی کثرت سے معاشرہ کے اندر موجود ہوں۔ اگر ایسا نہ ہو تو صحابی جیسے ایک شخص کے حاکم ہونے کے باوجود سارا نظام منتشر ہو جائے گا۔ موجودہ زمانہ میں جن مسلم ملکوں میں "اسلامی حکومت قائم کرو" کے نعرے لگائے جارہے ہیں وہاں نہ حکومت کی کرسی پر بیٹھنے کے لیے کوئی مثل عمرؓ موجو د ہے اور نہ معاشرہ میں امثال علی نظر آتے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر سیاسی تبدیلی ہو بھی جائے تو کوئی صالح اسلامی نظام کیسے قائم ہوگا۔ جب کہ حضرت علی رضی کے زمانہ سے بھی زیادہ بگاڑ آج پیدا ہو چکا ہے۔ جو لوگ اس قسم کی غیر فطری اور غیر اسلامی تحریکیں چلا رہے ہیں، وہ بلاشبہ اسلام کے دشمن ہیں کیوں کہ انھوں نے اسلام کو ساری دنیا میں بدنام کر کے رکھ دیا ہے۔ وہ لوگوں کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ اسلام کو ناقابل عمل، غیر مہذب، تشدد پسند، رجعت پسند قرار دے دیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues