جوابات
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۱۴
عرب دنیا میں بظاہر جس چیز نے اسلام کو ناقابلِ عمل بنایا وہ کچھ مسلم لیڈروں اور مسلم تحریکوں کا غیر جمہوری مزاج ہ۔ جمہوری مزاج یہ ہے کہ آزادانہ اور منصفانہ (free and fair) الیکشن ہو۔ اور پھر جو جیتے اس کو مقرر مدت تک کے لیے حکومت چلانے کا موقع دیا جائے ۔ اور جو ہارے وہ اپنی ہار کو تسلیم کرلے۔
عرب ملکوں میں یہ مزاج موجود نہیں۔ یہاں الیکشن میں ہارا ہوا گروپ اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتا۔ اور جو جیتے وہ چاہتا ہے کہ حکومت ہمیشہ اسی کے پاس رہے۔ اگر اس مزاج کی اصلاح ہو جائے تو عرب ملکوں میں اسلام پوری طرح قابلِ عمل نظر آنے لگے گا۔
وہ ظاہر ہے جس کو موجودہ زمانہ میں دینی بیداری کہا جاتا ہے، وہ میرے نزدیک صرف قومی بیداری ہے ۔ دینی بیداری وہ ہے جو معرفتِ خداوندی کی سطح پر ہونے والے ذہنی انقلاب سے ابھرے۔ موجودہ مسلم بیداری کا معاملہ یہ نہیں ہے ۔ وہ فلسطین اور اسی قسم کے دوسرے محاذوں پر مسلمانوں کی قومی شکست کی زمین سے ابھری ہے۔ وہ ایک قومی ردِ عمل ہے جس کو اسلام کی اصطلاحوں میں بیان کیا جاتا ہے۔
دینی بیداری لوگوں کے اندر عجز پیدا کرتی ہے اور قومی بیداری احساسِ برتری کا جذبہ ابھارتی ہے۔ دینی بیداری سے دعوت کی نفسیات پیدا ہوتی ہے اور قومی بیداری سے مخاصمت کی نفسیات۔ دینی بیداری آدمی کو دوسروں کے تئیں محبت کرنے والا بناتی ہے اور قومی بیداری دوسروں کے تئیں نفرت کرنے والا۔ دینی بیداری میں لوگوں کی نظر اپنی ذمہ داریوں پر ہوتی ہے اور قومی بیداری میں لوگوں کی نظر اپنے حقوق پر۔ دینی بیداری سے آخرت رخی ذہن بنتا ہے اور قومی بیداری سے دنیا رخی ذہن۔
اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کی موجودہ بیداری میں وہی تمام علامتیں نظر آئیں گی جن کو ہم نے اوپر کی تقسیم میں قومی بیداری کے تحت بیان کیا ہے۔
قرآن کی تصریح کے مطابق اسلام کا دشمن نمبر ایک کبھی خارج میں نہیں ہو سکتا۔ اس کو یقینی طور پر داخل میں تلاش کرنا چاہیے (فلا تخشوہمو اخخشون)، میرے نزدیک یہ داخلی دشمن وہ نام نہاد اسلام پسند (اسلامسٹ) ہیں جو موجودہ زمانہ میں " اسلامی نظام قائم کرو " کا نعرہ لے کر کھڑے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues