کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۱۷
کوششوں کے نتائج سامنے آجاتے ہیں تو بعد کے لوگ اس کے قصیدہ خواں بن جاتے ہیں۔ ہر مصلح اس دنیا میں انسانوں کی اسی کوتاہ نظری کا شکار ہوا ہے۔ انسانی تاریخ میں یہ منظر اتنا عام ہے کہ پیغمبر جیسی مقدس ہستیاں بھی اس عمومی انجام سے مستثنیٰ نہیں حقیقی لیڈر کی تعریف یہ ہے کہ وہ حال میں مستقبل کو دیکھ سکے۔ ایسا لیڈر جو بات کہتا ہے وہ مستقبل کے لحاظ سے کہتا ہے۔ وہ ایسا منصوبہ پیش کرتا ہے جس کا مثبت انجام بہت بعد کو نکلنے والا ہوتا ہے۔ اب جن لوگوں کی نظریں حال میں اٹکی ہوئی ہوتی ہیں، جو ظاہری مسائل کو جانتے ہیں مگر ان کی تہہ میں چھپے، ہوئے امکانات سے باخبر نہیں ہوتے، ایسے لوگ صرف سطحی لیڈروں کو سمجھ پاتے ہیں جو انھیں سامنے کے مسائل میں الجھائیں۔ وہ ان سچے لیڈروں کی اہمیت کو جان نہیں پاتے جو مستقبل کی تعمیر کاگہرانقشہ ان کے سامنے پیش کریں۔ یہی معاملہ سرسید احمد خاں کے ساتھ پیش آیا۔
سرسید احمد خاں کا زمانہ وہ ہے جب کہ ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ ہمارے تمام اکابر اس زمانہ کو غلامی کا زمانہ کہتے تھے۔ مولا نا قاسم نانوتوی، مولانامحمودحسن دیوبندی، مولا نا شبلی نعمانی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابوالکلام آزاد، مولا نا حسین احمد مدنی ، غرض اس دور کے جتنے بھی رہنما تھے ، سب کے سب نفرت کی حد تک انگریزوں کے مخالف بنے ہوئے تھے۔ ان کے نزدیک انگریزی حکومت کی موجودگی میں مسلمانوں کے لئے کسی ترقی یا کامیابی کا سرے سے کوئی امکان ہی نہیں تھا۔ مولانا محمدعلی تو غلام ہندوستان میں مرنے کے لئے بھی تیار نہیں تھے ۔ اقبال نے اس سے آگے بڑھ کر کہا کہ غلامی ایسی بری چیز ہے کہ وہ خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت ہی کو ابدی طور پر لوگوں سے چھین لیتی ہے :
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
مگر سرسید کا معاملہ یہ تھا کہ وہی انگریز جس کو تمام لوگ دشمن اسلام کے خانہ میں ڈالے ہوئے تھے، اسی انگریز میں انھوں نے دوستی کے پہلو تلاش کر لئے ۔ وہ ہی ہندوستان جس کو لکھنے اور بولنے والے مسلمانوں کا پورا طبقہ صرف غلام ، ہندوستان بتا رہا تھا ، اسی غلام
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues