Al-Risala · June 1996 · page 18

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۱۸

ہندوستان میں انھوں نے آزادی کے مواقع کی نشاندہی کی۔ سرسید کی ترجمانی کرتے ہوئے مولانا الطاف حسین حالی نے اپنی مسدس میں کہا:

حکومت نے آزادیاں تم کو دی ہیں ترقی کی راہیں سدا سر کھلی ہیں بس اب وقت کا حکم ناطق یہی ہے کہ جو کچھ ہے دنیا میں تعلیم ہی ہے غلامی کے اندر آزادی کی اس نشاندہی کا مطلب کیا تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستان میں اگر چہ انگریزوں کی سیاسی محکومی کا مسئلہ ہے، مگر عین اسی وقت یہاں تعلیمی اور اقتصادی آزادی بھی موجود ہے۔ سیاسی مسئلے کے باوجود اس ملک میں تمہارے لئے یہ موقع ہے کہ تم غیر سیاسی میدانوں میں محنت کر کے اپنے لئے ایک باعزت اور خوش حال زندگی بنا سکو۔

دوسرے لفظوں میں، سرسید کے مخالفین صرف مسلئہ انگریز کو دیکھ رہے تھے، وہ اسی مسئلہ کو سب کچھ سمجھ کر اس سے لڑنے کی باتیں کرتے تھے، کیوں کہ ان کے نزدیک جب تک انگریز کا سیاسی مسئلہ ختم نہ ہو کوئی ترقیاتی کام سرے سے کیا ہی نہیں جاسکتا تھا۔ لیکن سرسید کی گہری نگاہ نے دیکھا کہ یہاں اگر مسائل ہیں تو اسی کے ساتھ اور عین اسی وقت یہاں مواقع بھی موجود ہیں۔ قانون فطرت کی زبان میں انھوں نے لوگوں کو یہ فارمولا دیا کہ ـــــــــ مسائل کو نظر انداز کرو ، اور مواقع کو استعمال کر کے اپنی زندگی کی تعمیر کرو۔ سرسید کے زمانہ میں اس فارمولے کی حکمت آنکھ والوں کو بھی نظر نہیں آتی تھی۔ مگر سو سال کے تجربہ کے بعد آج بے آنکھ والے بھی دیکھ رہے ہیں کہ سرسید کی نشاندہی نہایت درست تھی۔ اپنے حال میں بظاہر سرسید کافارمولا بزدلی اور بے عملی نظر آتا تھا۔ مگر بعد کے نتیجہ نے بتایا کہ وہ عین حکمت اور سراپا عمل تھا۔ بلکہ وہ واحد ممکن تدبیر تھی۔ اور اگر اول مرحلہ میں اس تدبیر کو پوری طرح اختیار کر لیا جاتا تو یقیناً مسلمانوں کی حالت اس سے بہت زیادہ مختلف ہوتی جو آج ہر طرف دکھائی دے رہی ہے۔

مگر انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ ماضی سے بہت کم سبق لیتا ہے۔ چنانچہ آج دوبارہ ہر طرف اس کوتاہ بینی کا دور دورہ ہے جو سرسید کے زمانہ میں یہاں پائی جاتی تھی۔ لوگ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues

Printed page