Al-Risala · June 1996 · page 25

ایک انسانی کردار

الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۲۵

ایک انسانی کردار

قرآن (الاعراف ۱۷۰ - ۱۷۵) میں ایک انسانی کردار کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اور ان کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین کا ہو رہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔ و اتل علیهم نبأ الذی آتیناه آیاتنا فانسلخ منها فاتبعہ الشیطان فکان من الغاوین۔ و لو شئنا لرفعناه بها ولكنه اخلد إلى الارض واتبع هواه)۔

اس آیت میں اس انسان کی مثال دی گئی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ ایسے حالات فراہم کرے جس کے اندر رہ کر وہ ایک دینی زندگی گزارنے اور آخرت میں خدا کا انعام حاصل کرے۔ مگر وہ اس پر راضی نہ ہو اور حرص وہوس میں مبتلا ہو کر ایک ایسی زندگی کی طرف بھاگ کھڑا ہو جس میں دنیا کی چمک دمک تو ہو مگر اس کی دینی اور اخروی زندگی اجڑ جائے۔ ایسے لوگوں کی بابت فرمایا کہ یہی گھاٹا اٹھانے والے لوگ ہیں (فانلئك ھم الخاسرون) الاعراف ۱۷۸ ایک شخص کو خدا یہ موقع دے کہ وہ بقدر ضرورت روزی پر قناعت کر کے دینی زندگی گزارے مگر وہ بقدرعیش حاصل کرنے کی خاطر یہ کرے کہ دینی زندگی کو چھوڑ کر دنیوی زندگی کی طرف دوڑ پڑے تو اس کا یہ فعل مذکورہ قرآنی آیت کا مصداق ہوگا۔

اسی طرح ایک شخص کو مامور بن کر دین کا کام کرنے کا موقع ملے مگر وہ امیر بننے کے شوق میں اس کو استعمال نہ کر سکے۔ ایک شخص کو اقتدار سے باہر زبان و قلم کے ذریعہ دعوت دین کا کام کرنے کا موقع دیا جائے مگر وہ اقتدار کا منصب حاصل کرنے کی خاطر اپنے آپ کو اس سے محروم کرلے۔ ایک شخص کے لیے غیر مشہور حیثیت میں دین کی خدمت کرنے کے مواقع فراہم ہوں مگر اپنے آپ کو مشہور حیثیت میں دیکھنے کے پیچھے وہ تمام مواقع کو تباہ کردے۔ جو لوگ ایسا کریں ان کی مثال اس انسان کی سی ہے جس کو خدا نے بلند حیثیت دینا چاہا مگر اس نے اپنے آپ کو پستی کی حالت میں گرا دیا۔

حرص دنیا کو چھوڑ کر ہی کوئی شخص دینی خدمت کا موقع اپنے لیے پاسکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues

Printed page