Modesty, thanksgiving, submission, peace,
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۲۴
اور خود اپنے ارادہ سے بھلائی کو اختیار کرے۔
روزہ میں آدمی خود اپنے فیصلہ کے تحت صبح کو کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے، اور پھر شام کو خود اپنے فیصلہ کے تحت دوبارہ کھانا کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے۔ یہ علامتی طور پر اسی آزادانہ اطاعت کی تربیت ہے۔ روزہ کا سبق یہ ہے کہ تم ایک با اصول زندگی گزارو، بغیر اس کے کہ خارج سے تمہارے اوپر کوئی جبر کیا گیا۔ تم اپنے دل میں اچھے خیالات رکھو اور برے خیالات کو اپنے اندر سے نکال دو۔ تم اچھی بات بولو اور بری بات کے لئے اپنی زبان بند کر لو۔ تم اچھا عمل کرو اور برے عمل سے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لئے روک لو۔ اور یہ سب خود اپنے آزاد ارادہ کے تحت ہو، نہ کہ کسی مجبوری کے تحت۔
آخر میں جب لوگ واپس جانے لگے تو ان کو یہی سائز کی نہایت خوبصورت چھپی ہوئی کتاب بطور تحفہ دی گئی۔ یہ الرسالہ بک سنٹر سے چھپی ہوئی تازہ انگریزی کتاب تھی جس میں دو سو احادیث رسول کے انگریزی ترجمے آرٹ پیپر پر چھاپے گئے ہیں؛ اس کا نام یہ ہے : Words of the Prophet Muhammad Selections from the Hadith ۱۲ صفحہ کی اس کتاب کے آغاز میں ایک صفحہ کا دیباچہ (Foreword) ہے۔ اس کا آخری پیرا گراف یہ ہے کہ ان حدیثوں میں وہ چند اصول بتائے گئے ہیں جن کی طرف پیغمبر نے اپنے ماننے والوں کو رہنمائی دی۔ یہ سب ابدی اصول ہیں۔ وہ نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ ساری انسانیت کے لئے اہمیت رکھتے ہیں :
The following are some of the principles by which the Prophet sought to guide his followers. Eternal in essence, they are of value not only to Muslims but to humanity at large.
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues