ایک انسانی کردار
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۲۷
گڑگڑاہٹ کی آواز آئی۔ کھڑکیوں کے دروازے بجنے لگے۔ گھر ہلنے لگا۔ یہ زلزلہ تھا۔ گھر کے چھوٹے بڑے سب ڈر گئے۔ ایک بچی رونے لگی۔ میرا ڈھائی سالہ پوتا عدنان بھی گھبرا اٹھا۔ وہ میرے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ دادا، یہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ زلزلہ۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ بولا کہ دادا آپ زلزلہ کو ڈنڈے سے مار دیجئے۔
گھر میں کبھی بلی آتی ہے تو عدنان کہتا ہے کہ دادا، بلی کو مار دیجئے۔ میں اپنی چھڑی سے اس کو بھگا دیتا ہوں۔ اس پر قیاس کر کے اس نے سمجھا کہ دادا زلزلہ کو بھی مار سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ زلزلہ اللہ کی طرف سے آتا ہے اور وہی اس کو روک سکتا ہے۔ میں یا تم اس کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اس زلزلہ کا مرکز اندر اگاندھی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے قریب تھا۔ اس کی وجہ سے کچھ معمولی نقصانات ہوئے ۔ دہلی کی تاریخی جامع مسجد میں دو اونچے میناروں کے علاوہ کچھ چھوٹے مینار ہیں۔ ایک چھوٹے مینار کا اوپر کا حصہ ٹوٹ کر نیچے گر پڑا ۔
۲۸ جولائی کی شام کو، انکے گھر سے ایئر پورٹ کے لئے روانگی تھی۔ روانگی سے پہلے سعودی عرب کے شیخ عبد العزیز بن عبداللہ العمار اور سعودی سفارت خانہ کے دو ذمہ دار ملاقات کے لئے آگئے۔ ان کے ساتھ مولانا عبد الله مدنی جھنڈا نگری بھی تھے۔ دیر تک تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اکثر ملکوں کا سفر کیا ہے، اسلام کے اعتبار سے کس ملک کو آپ نے زیادہ بہتر پایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ اضافی معاملہ ہے، کوئی کسی اعتبار سے بہتر ہے اور کوئی کسی اعتبار سے بہتر۔ مطلق طور پر کسی ایک ملک کو زیادہ بہتر نہیں کہا جاسکتا۔
انھوں نے ایک نئی بات یہ بتائی کہ فلپائن کا موجودہ شہر منیلا حقیقتہ امان اللہ تھا۔ مسلم عہد میں اس کا یہی نام تھا۔ بعد کو جب اس علاقہ سے مسلمانوں کو نکالا گیا تو جہاں اور چیزیں بدل گئیں وہاں شہر کا نام بھی بدل گیا۔ میں نے سوچا کہ تاریخ میں کتنی ایسی چیزیں ہیں جن کے تشخص کو لوگوں نے بدل ڈالا ہے۔ آخرت میں جب ہر چیز اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے نمایاں ہوگی تو وہی کیفیت ہوگی جس کو ایک شاعر نے اس طرح کہا ہے :
لوگ محشر میں حیران رہ جائیں گے کہ تھی بات کیا ہم نے سمجھا تھا کیا گھڑی میں گیارہ بج رہے ہیں۔ میں دہلی ایئر پورٹ پر بیٹھا ہوا ہوں۔ انسانوں کا ہجوم
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues