ایک انسانی کردار
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۲۸
ہر طرف آتا جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ہر ایک کے ساتھ بھاری بھاری بوجھ ہے۔ مگر ہر ایک مخصوص پہیے دار گاڑی پر اپنا سامان رکھے ہوئے ہے۔ چکنے اور ہموار فرش پر اس کی گاڑی پھسلتی ہوئی چلی جارہی ہے۔ پہیہ دار گاڑی نہ ہو تو ان سامانوں کو لے کر چلنا سخت مشکل ہو جائے۔ کسی نے کہا ہے کہ" سب سے بڑی ایجاد پہیہ ہے" یہ بالکل درست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس انسان نے پہلی بار پہیہ بنایا اس نے تاریخ انسانی کو ایک عظیم بڑھاوا عطا کیا۔ پہیہ کی ایجاد سے پہلے انسان کی تمدنی تاریخ ٹھہری، ہوئی حالت میں تھی۔ پہیہ کی ایجاد نے اس کو ترقی کے سفر پر رواں دواں کر دیا۔ ایئرپورٹ پر سوامی ویوگانند سرسوتی سے ملاقات ہوئی۔ وہ گنگوتری میں رہتے ہیں ۔ ان کو سنیاس لئے ہوئے ۴۵ سال ہو گئے۔ میں نے پوچھا کہ سنیاس جیون میں تو بڑا آنند آتا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ یہ گونگے کا گڑ ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا اس کو شبدوں میں نہیں کہا جا سکتا، بہت کہا جاتا ہے، پر وہ کہنے میں نہیں آتا۔ انھوں نے جواب دیا۔
ان کی باتیں سننے کے بعد میں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ نے لمبی تپسیا کی ہے۔ انھوں نے بہت نرمی سے جواب دیا: اور تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ بس اتنا کہوں گا کہ جب ہوش آیا تو پتہ چلا کہ ہورہا ہے، کیا کچھ نہیں ہے۔
دہلی سے لندن کے لئے برٹش ایئرویز کی فلائٹ نمبر ۴۱ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ روانگی کا مقرروقت ساڑھے ۱۲ بجے تھا۔ گھڑی کی ایک سوئی بارہ پر تھی اور دوسری سوئی ۶ پر کہ جہاز میں حرکت شروع ہوئی۔ چند منٹ کے بعد ہم زمین سے بلند ہو کر فضا میں پہنچ چکے تھے۔ اسی کے ساتھ کیلنڈر میں تاریخ بھی بدل گئی تھی ۔ ہم گھر سے نکلے تو جولائی کی ۲۸ تاریخ تھی، مگر اب ہم جولائی کی ۲۹ تاریخ میں داخل ہو چکے تھے۔
راستہ میں برٹش ایئر ویز کامیگزین ہائی لائف (High life) کا شمارہ جولائی ۱۹۹۴ دیکھا۔ اس میں ایک مضمون جدید کشتیوں کے بارہ میں تھا۔ اس کا عنوان تھا ڈریم بوٹس (Dream boats) ۔ مضمون میں جدید طرز کی آرام دہ کشتیوں (Luxurious Yacht) کی خوشنما تصویریں تھیں اور ان کے بارہ میں ضروری تفصیلات درج تھیں۔ یہ کشتیاں انسانی انہوسی حد تک آرام دہ اور خوبصورت ہوتی ہیں۔ ان کو دیکھ کر مجھے اپنا وہ ۶۰ سال پہلے کا زمانہ یاد آیا جب میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا جو ایک ندی کے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues