اسلامی لٹریچر کی ترتیبِ جدید
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۲۷
تقی الدین ابوالحسن علی السبکی، (السيف المسلول علی من سب الرسول ان کتابوں میں بے دریغ طور پر شاتم رسول کے بارے میں اسلام کا یہ حکم بتایا گیا ہے کہ وہ بطور حد قتل کیا جائے گا (يُقتل حداً) سب وشتم کرنے والا قتل کیا جائے گا خواہ وہ مسلم ہو یا کافر ( ان السابّ يُقتل سواء كان مسلماً او کافراً)
یہ کتابیں جب لکھی گئیں ، اس وقت مسلمانوں کو زمین پر کلی اقتدار حاصل تھا۔ آج کل کی زبان میں وہ واحد سپر پاور کی حیثیت رکھتے تھے ۔ اس وقت کا مفتی اور عالم اس پوزیشن میں تھا کہ اس کے لکھے یا بولے ہوئے الفاظ واقعہ بن جائیں ۔ چنانچہ اسی احساس کے تحت یہ تمام کتابیں لکھی گئیں ۔ مگر موجودہ زمانہ میں دو ایسی نئی صورتیں پیدا ہوئی ہیں جن سے ہمارا قدیم مفتی یا عالم مکمل طور پر بے خبر تھا۔ ایک یہ کہ آج مسلمان مغلوب ہیں اور ہر قسم کا غلبہ ان قوموں کی طرف چلا گیا ہے جن کے مذہب کا اولین مقدس اصول یہ ہے کہ انسان کو لامحدود طور پر اظہار خیال کی آزادی حاصل ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان اگر کسی کی تصنیف پر اس کو شاتم قرار دے کر اس کے قتل کا فتویٰ دیں تو فوری طور پر وہ شخص ان غالب قوموں کا ہیرو بن جاتا ہے ۔ یہ قومیں اپنے اعلیٰ وسائل کے ساتھ اس طرح اس کی حمایت پر آجاتی ہیں کہ مسلمان عوام اور خواص سب کے سب ان کے مقابلہ میں بے بس ہو جاتے ہیں ۔ اس طرح قتل کا فتویٰ صرف ایک مضحکہ خیز ، لفظی اعلان بن کر رہ جاتا ہے ۔ دوسری اس سے بھی زیادہ شدید بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ایک بالکل نئی طاقت ظہور میں آئی ہے جس کو میڈیا کہا جاتا ہے ۔ موجودہ زمانہ میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا ، دونوں ہی مکمل طور پر انھیں غالب قوموں کے ہاتھ میں ہیں ۔ اس کے ذریعہ وہ مسلم علماء کے فتووں کو ساری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ اس کی بنیاد پر وہ اسلام کو اس طرح پیش کرتے ہیں گویا کہ وہ کوئی وحشیانہ مذہب ہے جو بات بات پر لوگوں کو مارنے اور قتل کرنے کے لیے تیار رہتا ہے ۔ اسلام امن کا مذہب نہیں ہے بلکہ تشدد کا مذہب ہے ۔ وغیرہ اس طرح شاتم کو قتل کرنے کے موجودہ فتوے تو قتل نہ کر سکے ۔ البتہ وہ شدید طور پر اسلام کی بدنامی کا سبب بن گئے ۔ وہ الٹا نتیجہ پیدا کرنے والے (counter-productive) ثابت ہوئے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues