Al-Risala · January 1996 · page 26

اسلامی لٹریچر کی ترتیبِ جدید

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۲۶

دور جدید کے ظہور پر اب تقریبا تین سو سال کی مدت گزر چکی ہے۔ مگر حالت یہ ہے کہ آج بھی ہمارے کتب خانہ میں تهافت (الفلاسفة (الغزالی) اور (الرد علی المنطقیین (ابن تیمیہ) جیسی کتابیں موجود نہیں جو وقت کے افکار کے مقابلہ میں اسلام کے موقف کو مستحکم کرتی ہوں۔ حتیٰ کہ جدید افکار کے تعارف کے لیے بھی مقاصد الفلاسفہ جیسی کوئی مستند کتاب تیار نہ کی جاسکی۔ تاہم میں کہوں گا کہ یہ مسئلہ موجودگیٔ رجال کے فقدان کا نہیں ہے بلکہ استعمال رجال کے فقدان کا ہے، یعنی باصلاحیت افراد موجود ہیں۔ مگر غیر صحت مند ماحول کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں اپنا صحیح رخ پانے سے محروم رہیں۔

موجودہ زمانہ کے اخبارات، جرائد اور کتا بیں آپ پڑھیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہمارے تقریباً تمام علماء اور دانشور ایک ہی نظریہ کو اپنے ذہن میں جگہ دیے ہوئے ہیں، اور وہ سازش (مؤامرات) کا نظریہ ہے۔ ہمارے تقریبا تمام لکھنے اور بولنے والے مسلسل یہ بتا رہے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی پستی اور مغلوبیت کا سبب صرف اغیار ہیں۔ صلیبی اور صہیونی اور امریکی استعمار کی سازشوں نے ہمارے لیے مصنوعی مسائل پیدا کر رکھے ہیں۔

ایسی حالت میں ذہن ہمیشہ انکشافِ سازش پر چلے گا نہ کہ دريافت حقائق پر۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں مفروضہ سازشوں کے ” انکشاف “ پر سیکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مگر جہاں تک جدید افکار کا تعلق ہے، ان کے مستند تعارف پر بھی کوئی کتاب موجود نہیں، کجا کہ ان افکار کے مقابلہ میں اسلام کی تشریح و تبیین پر کوئی طاقت ور کتاب تیار کی گئی ہو۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ پہلے رخ پر لوگوں کا ذہن خوب چلا، اور دوسرے رخ پر سرے سے ان کا ذہن متحرک ہی نہیں ہوا۔

اسلامی لٹریچر کی ترتیبِ جدید

دورِ اول میں جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا، وہ سب کا سب دور اقتدار میں تیار ہوا۔ اس کا نتیجہ فطری طور پر یہ تھا کہ وہ زمانی حالات سے متاثر ہو گیا۔ مثال کے طور پر شاتم رسولؐ کی سزا کے مسئلہ پر متعدد کتابیں ہمارے اسلامی کتب خانہ میں موجود ہیں۔ یہ سب کی سب دور اقتدار میں لکھی گئی ہیں، مثلاً : ابن تیمیہ الحرانی ، الصارم المسلول علی شاتم الرسول ابن عابدین الشامی ، تنبيه الولاة والحكام على احكام شاتم خير الانام

‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues

Printed page